دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک میں تیز رفتار ترقی کا ایک شعبہ سائنس و ٹکنالوجی کا شعبہ تھا اور رہبر انقلاب نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی و سائنسی ترقی کے لئے آخری سانس تک کھڑا رہوں گا۔
حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آج ایران مختلف ظالمانہ اور غیر قانونی پابندیوں کے باوجود،الحمدللہ! استقامت اور استحکام کے ساتھ کھڑا ہے اور مختلف شعبہ جات میں قابل ذکر ترقی بھی کی ہے،جب اس مشکل دور میں ملک استقامت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہا، تو اب بھی استقامت اور استحکام کے ساتھ اسی طرح آگے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمِ اسلام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن کا مل کر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو شیعہ سنی مشترکات، اختلافات کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔جبکہ ہندو، یہودیت، عیسائیت، بدھ مت اور سکھ مذاہب میں انسانی حوالہ سے اشتراک کے باوجود فکری، اخلاقی، نظریاتی اور عقائد کے حوالہ سے اختلاف موجود ہے۔
سربراہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے بغداد عراق میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
نجف اشرف سے آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر نجفی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بغداد میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زمہ داروں کی شناخت کرکے ان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
نجف اشرف میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں بغداد میں ہونے والے دو بم دھماکوں کی مذمت اور سیکیورٹی اداروں کو عوام کی تحفظ کےلیے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی درخواست کی ہے۔
آسام اسمبلی نے ایک تجویز منظورکی ہے جسکے نتیجہ میں پہلی اپریل سے تمام مدارس بند کردیئے جائیں گے ۔اسمبلی کی یہ تجویزاورمدارس بند کرنے کافیصلہ غلط ہے،اورآئین میں موجود بنیاد ی حقوق کی دفعہ ۳۰؍کی کھلی مخالفت ہے۔
موصولہ خبروں کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں یہ دھماکے الطیران چوک اور باب الشرقی کے علاقے میں ہوئے جن میں کم سے کم اٹھائیس افراد شہید اور تہتر زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خود طویل عرصہ برسراقتدار رہی ہیں وہ خود بہتر طرز حکمرانی قائم نہ کر سکیں۔ موجودہ حکومت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔