دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
آئمہ جمعہ گلگت ریجن کا اجلاس زیر صدارت علامہ آغا سید راحت حسین الحسینی مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت میں منعقد ہوا، جس میں گلگت بھر سے آئمہ جمعہ امامیہ نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید راحت حسین الحسینی نے کہا علماء کرام دین کے پیشوا اور قوم کے رہبر ہیں، منصب کے لحاظ سے ان پر بڑی گرانقدر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اس لیے ہم سب کا فرض ہے ہم تزکیہ نفس کیساتھ ان عظیم ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس کریں۔
آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے مزید فرمایا کہ دنیا وہ راستہ ہے کہ جس کی انتہا آخرت ہے اور سلامتی سے منزل مقصود تک عقلمند ہی پہنچتے ہیں اسلئے اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان رضائے الہی کے حصول اور تقوی کے مراتب میں بہتری کے لئے کوشاں رہے اور تقوی کی ابتدائی منزل روزانہ کم از کم ایک مرتبے اپنے نفس کا محاسبہ ہے۔
روایت کے مطابق حضرت ام البنین (عليها السلام) کی وفات 13جمادی الثانی کو ہوئی-المناک یادوں سے وابستہ اس دن کی آمد پہ روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں ہر طرف حزن وملال اور سوگ کے آثار نمایاں ہیں ہر طرف سیاہ چادریں اور سیاہ علم آویزاں ہیں ہر چہرہ حضرت ام البنین (عليها السلام) کی وفات اور مصائب کی یاد میں غمگین ہے.
روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے میڈیا سیکشن کے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ نیٹ ورکس ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ روضہ مبارک کی (عربي – انگریزی – فارسی - تركی – اردو - فرانسيسی – سواحلی – اور جرمنی زبان میں نشر ہونے والی) آفیشل ویب سائٹ الکفیل انٹر نیشل نیٹ ورک نے دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے (1,168,608) ایک ملین سے زیادہ مومنین کی نیابت میں مراسیم زیارت ادا کیے گئے ہیں۔
حجت الاسلام ذوالفقاری نے بتایا کہ کہ اس فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد مزارات اور مقبروں کی شناخت کے علاوہ ان تہذیبی آثار کا اندراج اوران کی فن تعمیر،سماجی و ثقافتی تاثیر اور دنیا کے مؤثر ترین مقبروں کی انتظامیہ کے مابین بین الاقوامی یونین کا قیام ہے۔
قائدملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی مفسر قرآن بزرگ عالم دین علامہ شیخ محسن علی نجفی کے رہائش گاہ آمد اور ملاقات۔
شاعر اہلبیت ؑ ڈاکٹر ریحان اعظمی کی نماز جنازہ مولانا اسد علی شاکری کی اقتداء میں ادا کردی گئی۔ ہزاروں چاہنے والوں نے شرکت کی۔
امام جمعہ نیویارک علامہ سندرالوی نے کہا کہ مرحوم شاعر نے خدمت مکتب اہل بیت ؑ میں زندگی کا کوئی لمحہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر، عقیدت میں ڈوبے ہوئے ذاکر اور غیرت مند سید زادے تھے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور مہتمم اعلیٰ جامعۃ المنتظر لاہور علامہ افضل حیدری نے ملک کے نامور ادیب، مصنف و شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے علم و ادب کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔