مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
آسام اسمبلی نے ایک تجویز منظورکی ہے جسکے نتیجہ میں پہلی اپریل سے تمام مدارس بند کردیئے جائیں گے ۔اسمبلی کی یہ تجویزاورمدارس بند کرنے کافیصلہ غلط ہے،اورآئین میں موجود بنیاد ی حقوق کی دفعہ ۳۰؍کی کھلی مخالفت ہے۔
موصولہ خبروں کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں یہ دھماکے الطیران چوک اور باب الشرقی کے علاقے میں ہوئے جن میں کم سے کم اٹھائیس افراد شہید اور تہتر زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خود طویل عرصہ برسراقتدار رہی ہیں وہ خود بہتر طرز حکمرانی قائم نہ کر سکیں۔ موجودہ حکومت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔
علامہ سید وحید کاظمی نے کہا نو منتحب امریکی صدرجوبائڈن کے آتے ہی اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی اراضی پر نئی آبادکاری کا اعلان مسلم دنیا کے لئے باعث تشویش ہے۔
ایران کی قدس فورس کے شہید کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی صاحبزادی زینب سلیمانی نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کو شہید کر کے ٹرمپ ہیرو تو کیا بنتے، دنیا بھر میں منفور ہو گئے اور اب وہ خوف کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
حضرت بی بی فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے یوم شہادت کی مناسبت سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زوردیا کہ خواتین سیرت فاطمہ ؑپر عمل کرکے گھر کو جنت بنا سکتی ہیں۔
شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارا نہ ہم آہنگی موجود ہے، شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔امریکی استعماری ایجنڈے پر عمل کرنے والے کچھ شر پسند عناصر سر اپنی روزی روٹی کی خاطر مسلمان فرقوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں.
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹوئیٹ میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں سابق امریکی صدر ٹرمپ اور سابق وزیر خارجہ پومپئو کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھاکہ ٹرمپ ، پومپئو اور ان کے دیگر رفقاء اب تاریخ کے سیاہ باب کا حصہ بن گئے تاہم شہید جنرل قاسم سلیمانی کا نام بدستور درخشاں رہے گا۔
ایرانی گارڈین کونسل کے جنرل سکریٹری آیت اللہ احمد جنتی نے آج اس کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں نئے صدر کی تقریب حلف برداری کی تقریب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سیاسی تجزیہ نگاروں اور دنیا کے لکھاریوں کو امریکہ میں رونما ہونے والے ان پرتشدد واقعات کے متعلق تجزیہ و تحلیل کرنا چاہیے تاکہ یہ واقعات ان افراد کے لیے درس عبرت ہوں جو سیاسی خلفشار کے شکار اس ملک سے اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔