دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
امریکی حکومت اپنے پیش روؤں کے ساتھ جو ہوا وہ بھول گئی ہے جو دین اسلام اور اس کی عظیم شخصیات کی توہین کرنا چاہتے تھے۔امید کرتے ہیں کہ امریکہ ہوش کے ناخن لے گا
انہوں نے ، زیادہ سے زیادہ بہتری کے لئے تبدیلی کے سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی کی تاکید کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ آستان قدس رضوی کی جامع پالیسیوں پر مکمل اور باریک بینی کے ساتھ عمل در آمد سے ، اس مقدس اور روحانی ادارے کی افادیت ، ادارے کے اندر باہمی تعاون اور زیادہ منظم طریقے سے کام میں بھی مدد ملے گي۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیرحسین نجفی نےمرکزی دفتر نجف اشرف میں عراق کے مختلف صوبوں خاص کربغداد بصرہ اور واسط سےآئے مومنین پرمشتمل وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جناب فاطمہ زہراء علیھا السلام ہماری خواتین کے لئے پاکیزہ ومقدس نمونہ عمل ہیں ہماری خواتین کو اپنی زندگی کےہرشعبےمیں انکی اقتداء کرنا چاہئے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین مولاناحسن رضا نے کہا کہ ولایت فقیہ یعنی ؟ولایت کہتے ہیں حکومت کو اور فقیہ کہتے ہیں اس شخص کو جو دین میں درجہ اجتہاد پر فائز ہو اس کے ساتھ ساتھ عادل ہو، عاقل ہو اور دنیا کے مسائل سے آشنا ہو،پس ولایت فقیہ کا مطلب ہوا فقیہ اور مجتہد کی حکومت۔۔۔ اب ان شرائط پرپورا اترنے والے اگر بہت سارے فقہا ء ہوں تو ظاہر ہے کہ سب ایک ساتھ ولی و سرپرست نہیں بن سکتے
میں فرانسیسی وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ اسلامی انتہا پسندی کے مقابلے کے تحت ملک کی نو مساجد بند کر دی گئی ہیں۔
امام جمعہ نجف اشرف حجت الاسلام و المسلمین سید صدر الدین قبانچی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکی پابندیوں کی فہرست میں حشد الشعبی ہیڈ کوارٹر کے سربراہ کا نام شامل کرنا ہمارے لئے باعث فخر ہے اور امریکیوں کے خوفزدہ ہونے کی ایک دلیل ہے،مزید کہا کہ ٹرمپ مہلک ہے اور تمام مسلمانوں کو اس پر ہر طرح کا پریشر ڈالنا چاہیے۔
آستانہ مقدسہ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے بین الاقوامی امور کے دفتری سربراہ نے ،کورونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے سالانہ 20 لاکھ غیر ایرانی زائرین اور سیاحوں کی میزبانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں ، حرم مطہر بنت موسی ابن جعفر علیہما السلام میں مختلف ممالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے 40 لوگوں نے دین مبین اسلام کو قبول کر لیا ہے ، جنہیں ایک ڈاکومنٹری کی صورت میں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔
مرکزی صدر نے پابندی کی مزمت کرتے ہوئے مزید کہا کہ عالمی استعمارامریکہ اور یورپی یونین کی حالیہ پابندیوں پہ شیعہ سنی مسلمانوں نے اظہار برہمی کیا ہے حرمِ امام رضا پہ پابندی دراصل شعائر اسلامی پہ پابندی ہے امریکہ کو اس توہین آمیز رویے کی امت مسلمہ سے معافی مانگنا ہوگی۔
حجت الاسلام محمد جواد حاج علی اکبری نے اپنے خطاب میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ استقامتی تحریکیں جناب فاطمہ زہرا کے قیام سے ہی متاثر ہوکر شروع ہوئی ہیں، کہا کہ جناب فاطمہ زہرا (س) کا یہ قیام پوری تاریخ اسلام کی تمام مزاحمتی اور استقامتی تحریکوں کی اساس ہے۔