دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے بزدلانہ دہشت گردی دو ممتاز ججوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے انتظامی اور سیکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بزدلانہ جرم کے پس پردہ عناصر کو فوری گرفتار اور سخت سزا دیں اور ایسے شرپسند واقعات کی روک تھام کے لیے پیشگی تدابیر اختیار کریں۔
اس موقع پر شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی بھی موجود تھے۔ وفد نے مختلف علاقائی مسائل و دیگر امور پر علامہ ساجد نقوی سے رہنمائی لی۔
سربراہ ایس یو سی نے شہید موسوی کی 11ویں برسی پر اپنے پیغام ان کی مذہبی، ملی اور قومی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے خانوادے، شاگردان، عقیدت مندوں سے تسلیت کرتے ہوئے ان کے علو درجات کی دعا کی۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے جنگ بندی معاہدے پر غزہ کی مقاومت کو مبارک باد دیتے ہوئے اسے اسرائیل کی کھلی شکست قرار دیا۔
عالم مجاہد جناب حجۃ الاسلام و المسلمین آقائے الحاج شیخ علی رازینی اور ان کے معاون شجاع جج جناب آقائے الحاج شیخ محمد مقیسہ رضوان اللہ علیہما کی شہادت پر میں ان کے معزز پسماندگان کی خدمت میں تہنیت اور ان کی جدائی پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے کہا: اسرائیل نے اخلاقی، سیاسی، سیکورٹی، اقتصادی اور قانونی لحاظ سے اپنی سب سے بڑی شکست کا سامنا کیا ہے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسے 120 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
اس موقع پر وفد کے ارکان نے مرجع عالی قدر کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی درازی عمر کے لیے خصوصی دعا کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ججوں کوبھی جسٹس رستم کیانی جیسی جرات پیدا کرنی چاہیے کہ وہ غلط کو غلط کہہ سکیں ۔ چاہے کہنے والا کوئی بھی ہو تو پھر انصاف کا بول بالا ہوگا ۔ انہوں نے زوردیا کہ ہ میں صرف خدا سے ڈرنا چاہیے، اس کے علاوہ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزاحمتی محاذ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ صبر اور مزاحمت کرنے والوں کے لئے خدا کا عظیم تحفہ ہے۔