دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
جس طرح حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے کربلا کے واقعے کو دشمن کی غلط بیانیوں سے بچایا، آج ہمیں بھی 456 دن کے صیہونی مظالم کی حقیقت کو دنیا کے سامنے بتانا ہوگا اور جھوٹے بیانوں سے لوگوں کو خبردار کرنا ہوگا۔
فلسطینی مقاومتی محور کی یہ فتح صیہونی حکومت کے مکمل خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو گی جو ان شاء اللہ قریب ہے
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مراکش کشتی حادثہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: آئے روز ایسے سانحات اور درجنوں افراد کاڈوب جانا ایک انسانی المیہ ہے۔
مجمع نمایندگان طلاب و فضلائے حوزہ علمیہ قم نے جہاد مقاومت کی مسلسل کامیابیوں، خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی اور حماس و جہاد اسلامی کی جانب سے غاصب اسرائیل پر شرائط مسلط کرنے کے موقع پر ایک بیان جاری کیا ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا کہ مومنوں کے نامہ اعمال کا عنوان محبت حضرت علی (ع) ہونا چاہیے،لہٰذا، مومن کے لیے سب سے اہم چیز اظہار محبت علی (ع) ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: خداوند متعال ان معتکفین کو کہ جو اس کے آستانہ قدسی اور جلال و جبروت کے حضور میں ہوتے ہیں، مایوس واپس نہیں لوٹاتا۔
حضرت آیت اللہ وحید کہا ہے کہ اگر امیرالمومنین علی علیہ السلام نہ ہوتے تو آدم سے خاتم (ص) تک تمام انبیاء کی بعثت ناقص ہوتی۔
حضرت علی کی حیات طیبہ مسلمانان عالم کے لئے نمونہ عمل ہے ہم سب کو چاہیے کہ ہم اس کو اپنائیں،آپ کی تعلیمات کی روشنی میں نظام کی تشکیل کے لئے کوشاں رہیں تاکہ انسانیت کو فلاح و نجات سے ہمکنار کیا جاسکے۔
مفتی اعظم سلطنت عمان، شیخ احمد بن حمد الخلیلی، کے نام آیت اللہ اعرافی کا تعزیتی پیغام سیکرٹری جنرل اسلامی جمہوریہ ایران کے یوتھ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، امین انصاری کے ذریعے ان تک پہنچایا گیا۔