صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
صہیونی دہشتگرد نے اپنے خبیث اور جنایت کار ہاتھوں کو اس عظیم شہید اور لبنان کے سینکڑوں بے گناہ عوام کے خون سے رنگین کرکے اپنی بدصورت چہرے کو دنیا کے سامنے مزید سیاہ کردیا ہے اور امید ہے کہ اس شہادت کے ساتھ اس سرطانی غدود کا خاتمہ بہت جلد ہو گا، إن شاء الله۔
سید مقاومت سید حسن نصر اللہ رضوان الله علیه، حزب اللہ کے عزیز رہنما کی افتخار آمیز شہادت، تمام ان لوگوں کے لیے جو اسلام اور امام حسین علیہ السلام کے عظیم مکتب سے وابستہ ہیں اور جو عالمی کفر اور سفاک صہیونی رژیم کے خلاف کھڑے ہیں، ایک بہت افسوسناک اور دلسوز خبر تھی۔
بے شک شہادت اس عظیم شخصیت کی آخری آرزو تھی اور وہ عرصہ دراز سے اس سعادت کی تمنا رکھتے تھے لیکن اس وحشیانہ اقدام سے اس رژیم نے اپنی نابودی کی راہ کو مزید ہموار کر دیا ہے۔
وہ عظیم شہید اپنی توحیدی نظر کے ساتھ میدان جنگ میں تھے اور ان کے عمل اور گفتگو میں توحید واضح تھی۔ ان کی پختہ یقینی اور اللہ کی مدد پر مکمل اعتماد اور حضرت مهدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی راہ میں اپنے سپاہی ہونے کا گہرا یقین، انہیں عظیم اور روحانی مقامات تک لے گیا اور وہ حقیقتاً ایک ولی الٰہی تھے۔
سید مقاومت، ولایت کے وفادار سپاہی، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل، حاج سید حسن نصراللہ کی شہادت، جنہوں نے خدا کے دشمنوں کے خلاف مقدس جہاد میں اپنی جان نچھاور کر دیا اور دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے دلوں کو غمگین کر دیا، اس غم سے مومنین کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
ہم امریکہ کی سرکردگی میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے صیہونی ستمگروں کے حامیوں کی بھی پرزور مذمت کرتے ہیں اور انہیں برابر کا شریک تصور کرتے ہیں۔
اسلامی مقاومت کے قائد سید حسن نصر اللہ کا راستہ آزادی، پامردی، فداکاری، وفاداری، شہادت طلبی، مردانگی اور مخلصانہ جہاد کا نام ہے، جسے دنیا کی مظلوم عوام ہر حال میں پوری طاقت کے ساتھ آگے لے جائیں گے۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا کہ سید حسن نصراللہ اپنے جد امجد حضرت امام حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہوئے ہیں۔
انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ظلم و نسل کشی کو نہ روکا گیا تو پھر اس کے اثرات خطے سمیت پوری دنیا پر پڑیں گے۔