صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
انہوں نے کہا کہ اگست کے آغاز سے اب تک تقریباً 13 ہزار پاکستانی زائرین میرجاوہ اور ریمدان کی 2سرحدوں سے اس صوبے میں داخل ہوچکے ہیں اور پھر ملک کے مقدس مقامات اور کربلا میں روانہ ہوگئے ہیں۔
انہوں نے سیلاب زدہ عوام سے ان کی احوال پرسی کی اور ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا، اس موقع پر علامہ سید انتظار مہدی نجفی نے متاثرین کے گھر گھر جا کر انہیں علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے بھیجی گئی امدادی رقوم کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو یکجہتی اور تعاون کا علمبردار ہونا چاہیے، انہو نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے پہلے دن سے کہا ہے، اہلبیت علیہم السلام ورلڈ اسمبلی، غیر شیعوں سے مقابلے اور دشمنی کے لئے ہرگز نہیں ہے اور ابتدا سے ہی ہم نے غیر شیعہ برادران کا، جو صحیح راستے پر بڑھ رہے ہیں، ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا پیغمبر اکرم کا پہلا پیغام توحید تھا تاکہ انسانیت فلاح پاکر کامیاب ہو جائے۔ یعنی اگر انسان کسی شیطان، طاغوت اور ہویٰ و ہوس کے سامنے نہیں جھکتا اورصرف اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرتا ہے تو وہ سچا مسلمان ہے۔ ان کا کہنا تھا انسان اگر کاغذ قلم سے اپنی روزانہ کی کارکردگی لکھے اور شام کو خود چیک کرے تو اسے پتہ چلے گا کہ اس نے دن کا تقریباً کافی حصہ فضولیات میں گزاردیا ہے۔ اس لئے تقویٰ و پرہیز گاری کے لئے انسان کو خوداحتسابی اور خود سازی پر توجہ دینی چاہیے ۔
وفاق ٹائمز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق آج دفتر نمائندہ ولی فقیہ حج وزیارت قم میں اربعین حسینی (ع) کے حوالے سے بعثہ مقام معظم رھبری, جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان اورسازمان تبلیغات اسلامی کے مسئولین کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا
تقریب کے آخر میں ورلڈ فیڈریشن کی جانب سے مہمان گرامی محترم جناب صفدر جعفر صاحب اور محترم جناب مولانا شیخ نادر جعفر صاحب نے خطاب کیا اور جامعۃ الکوثر کی شاندار علمی و روحانی خدمات پر شیخ الجامعہ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔
یہ مبلغین ایران کے ریمدان بارڈر اور ایرانشہر میں پاکستانی زائرین کی رہنمائی اور تبلیغی فرایض ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا مسلمان سات آٹھ سو سال تک حاکم رہے تو ترقی کرتے رہے اور سب سے آگے رہے لیکن اس کے بعد جب وہ دوسروں کی غلامی میں تین سو سال تک رہے تو وہ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ غلامی کی زنجیریں ابھی تک نہیں توڑ پائے۔
ان تمام تاخیری حربوں کے پیچھے عراق اور پاکستان حکومت کے درمیان خفیہ معاہدہ ہے۔