صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
آیت اللہ محمد حسین زابلی، آیت اللہ العظمیٰ خویی، آیت العظمی سیستانی، آیت اللہ العظمیٰ بھاءالدینی کے شاگرد تھے.
اترپردیش کے 100 سے زائد مدرسوں نے جدید تعلیم کے لئے اپنے دروازے کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ دراصل جمعیت علماء ہند محمود مدنی گروپ نے جمعیت اوپن اسکول پروجیکٹ متعارف کرایا ہے ، جس کے ذریعہ مدرسوں کے طلبہ کو دسویں جماعت تک تعلیم دی جائے گی ۔ آج اس پروجیکٹ کو جمعیت علماء ہند محمود مدنی گروپ کے ذریعہ دہلی میں پورے طریقے سے لانچ کیا گیا ۔
جماعت اسلامی ہند کے شعبہ خواتین کی سکریٹری امتہ الرزاق نے کہا کہ لو مریجس اور لیو ان ریلیشن شپ کی وجہ سے خاندان کمزور ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور سرپرستوں کی رضامندی سے ہونے والی شادیاں کامیاب اور دیرپا ثابت ہوتی ہوئی آئی ہیں۔
شیخ الغریانی نے اشارہ کیا کہ ان کے ساتھ تجارت کرنا انہیں مضبوط بنانے کے مترادف ہے اور ہر ڈالر جو ہم ادا کرتے ہیں وہ ہمارے بچوں کے سینوں میں ایک گولی کی مانند ہے۔
پہلوی دور حکومت بہت سے پہلوؤں سے ایران کی معاصر تاریخ کا ایک متضاد دور ہے اور ارضی سالمیت کے مسئلے میں یہ تضاد کچھ زیادہ ہی نمایاں ہے۔ پہلوی حکومت بظاہر اور اپنے دعوے کے مطابق اچھی خاصی فوجی طاقت کی حامل ہے لیکن اس کے دور میں اغیار کی جانب سے ایران کی ارضی سالمیت کی لگاتار اور بڑی شدت سے خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
امام جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے ماہ محرم الحرام میں بڑے امام باڑے میں منعقد کی گئی مجلسوں کو لیکر انتظامیہ کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر اور عدالت میں داخل چارج شیٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بڑا امام باڑہ مذہبی مقام ہے ،یہاں ہمیشہ کی طرح مجلس منعقد ہوتی رہیں گی ۔اگر مجلسوں پر پابندی لگائی گئی تو ہم اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے اور کسی بھی طرح کے انجام کی پرواہ نہیں کریں گے.
اور دعا ہے کہ مرحوم محمد علی سدپارہ کو جوار ائمہ میں جگہ عنایت فرمائےاور لواحقین کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین
مارک لوکاک نے کہا کہ یمن اس وقت گزشتہ کئی عشروں کے دوران بدترین انسانی المیے کی طرف تیزی بڑھ رہا ہے جبکہ یمن میں انسان دوستانہ کاروائیوں اور اس ملک کو قحط و بھوک مری سے بچانے کے لئے دو ہزار اکیس میں تقریبا چار ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔
بعض عناصر اب بھی عراق کے بعص علاقوں میں روپوش ہیں جو موقع ملنے پر عراق میں دہشت گردانہ حملے کر کے عراقی عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں