یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن کا اٹلی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایرانی پرچم لہرا کر، ایران کی حمایت کا اعلان
























آئرلینڈ کے سیاستدان اور یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن، اسٹیڈیم کے اسٹینڈز میں ایرانی پرچم، امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی دہشت گردی،
جامعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی نے کہا کہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہر دور میں کی جاتی رہی ہے اور موجودہ حالات میں مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سے متعلق تاریخ مسخ کر کے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تاہم ہر طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے خلاف ہونے والی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرے۔
اجلاس میں بیشتر علماء کرام نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے ایشو پر اور بیرون ممالک شعائر اسلام کی توہین پر وفاقی وزارت مذہبی امور کی خاموشی اور رویئے پر بھی تنقید کی گئی۔
یاد رہے کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ کان کنوں کے لواحقین کے دھرنے میں وزیر اعظم کے نہ جانے کے فیصلے اور حکومتی پالیسی پر ندیم افصل چن نے ٹوئٹر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اشاروں کنایوں میں حکومتی پالیسی پر ناپسندیدی کا اظہار بھی کیا۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر جس ' عظیم الشان'رام مندر کی تعمیر ہورہی ہے ، اس کا خمیر ظلم اور ناانصافی سے تیار ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی تعمیرمیں ایسی دشواریاں حائل ہورہی ہیں ، جن کا تصور بھی مندر تعمیر کرنے والوں نے نہیں کیا تھا۔میڈیارپورٹوں کے مطابق اس مندر کی بنیادوں میں ایسی ریت اور پانی دریافت ہوا ہے جس پر فی الحال کسی عمارت کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔
اسلام آباد میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے سخت ترین پابندیوں کے باوجود پاکستان کے لئے گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر عمل کیا ہے۔
پاکستان کسی بھی فرقہ وارانہ دہشتگردی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس وقت تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایک پیج پر ہونا پڑے گا
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے مچھ میں گیارہ کان کنوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے ایک بار پھر تکفیری دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں علاقے کے تمام ملکوں کے تعاون کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزرا علی زیدی، زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، بلوچستان کے وزیراعظم جام کمال خان پر مشتمل وفد نے ملاقات کی اور ان سے کامیاب مذاکرات کیے۔
وزیراعظم عمران خان کے بیان کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، دھرنے والے پہلے لاشوں کی تدفین کریں وہ پھر کوئٹہ جائیں گے، کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے ہیں اور لاہور کے تمام داخلی راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ لاہور میں جی ٹی روڈ پر امامیہ کالونی کے مقام پر شہریوں نے ریلوے پھاٹک بند کر دیا ہے اور جبکہ فیروز پور روڈ پر چونگی امر سدھو کے قریب بیجنگ فلائی اوور چوک میں سڑک پر دھرنا دیدیا گیا ہے۔