رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ خمس سادات کا حصہ ہے۔ جس کا حکم قرآن نے دیا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی دینی درسگاہ سلطان المدارس سرگودھا کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی اور اور دوسری نشست میں خطاب کرتے ہوئے تاریخ اسلام میں علماء تشیع کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی
اس موقع پر انہوں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے میانوالی ہیلتھ کئیر اینیشیٹیو کے تحت خٹک بیلٹ ایریاز میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی و آگاہی کے للئے مقامی خواتین رضاکاران کی "مدد گار صحت" کے طور پر رجسٹریشن و ٹریننگ کے اقدام کو سراہا۔
صدر وفاق المدار س الشیعہ اورپرنسپل جامعتہ المنتظر آیت اللہ حافظ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بیوہ محترمہ ہنرینہ خان اور بیٹیوں کے نام تعزیتی خط میں فخرِ قوم و ملت محسن پاکستان کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ فقط آپ کا خاندان ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنے اس عظیم محسن اور بے مثال ہیرو کے فراق میں سوگوارہے۔
انہوں نے کہاکہ سردار سکندر حیات نے ہمیشہ اصول پرستی، حق گوئی اور حق کی سیاست کا علم بلند کیا، آزاد کشمیر کیلئے سردار سکندر حیات کی خدمات کو ہمیشہ یار دکھا جائے گا، مرحوم نے ریاست آزاد کشمیر کے عوام کی جو خدمت کی ہے، وہ ناقابل فراموش ہے۔
کوثر کالج برائے خواتین اسلام آباد کی طالبہ سیدہ آمت الزہراء نے ۱۰۵۱ نمبر لے کر فیڈرل بورڈ اسلام آباد میں ٹاپ کیا جبکہ ۴۳ طالبات نے A+، ۹ طالبات نے A اور ۴ نے B گریڈ حاصل کیا۔
مرحوم کی خدمات وطن عزیز کیلئے خاص طور پر لائق تحسین ہیں، اہل وطن مرحوم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور جو خدمات انہوں نے انجام دیں، ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا، حکومت کی جانب سے ان کے افکار و نظریات کے پرچار کے کام میں تیزی لائی جائے
انہوں نے کہا کہ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا تاحال لاپتہ ہوناایک سوالیہ نشان ہے جسے حکمرانوں کی حالیہ پیشکش نے مزید تشویشناک بنادیاہے
انہوں نے جرآت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کیا جس پر انہیں خاندان سمیت قید و بند میں ڈال دیا گیا جہاں وہ 8 سال قیدرہے۔انہوں نے کہا کہ صدام کی بعثی حکومت نے دیگر سینکڑوں شیعہ، سنی علماءکو قتل کرنے کے علاوہ فقط آ یت اللہ محسن الحکیم کے خاندان کے 16 افراد کو شہید کیا جن میں زیادہ تر علماءتھے۔