رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری علامہ افضل حیدری نے بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں ہونے والے زلزلے اور اس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ناؕب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے افغانستان کے صوبہ قندوز میں ہزارہ شیعہ مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
قرآن کریم کے فرمان انما المؤمنون اخوۃ کی روشنی میں اھل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ امت مسلمہ کو فرقہ پرستی اور نسل پرستی کے نام پر تقسیم در تقسیم ہونے کی بجائے اپنے اتحاد اور اخوت سے تمام تر مشکلات کا مل کر مقابلہ کرنا ہے
ایس یو سی پاکستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں تیز کریں۔
بزرگ عالم دین مفسر قرآن علامہ شیخ محسن نجفی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اخلاق کریمہ کا پیکر حجۃ الاسلام شیخ جعفر فیاض ایک مبارک عمر طلاب علوم دینیہ اور زائرین کی خدمت میں گزاری
علی مسجد جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاﺅن میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ابرہہ کے کعبہ پر حملہ کے وقت حضرت عبد المطلب ؑکا اس یہ کہنا کہ کعبہ کا ایک مالک، رب ہے،اُن کے توحید پرست ہونے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آفات ناگہانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کڑی آزمائشیں ہیں۔ہماری قوم کو بارہا ایسی آزمائشوں سے گزرنا پڑا تاہم قوم نے ہمیشہ بھرپور حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں 5.9 شدت کا زلزلہ۔ بیس افراد جاں بحق۔ تین سو سے زائد زخمی ۔ درجنوں مکانات منہدم
مجلس عزا سے خطاب میں مولانا سید محمد ظفر نقوی نے پیغمبر اکرم کی عظمت و فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ حضور نے ایک شخص سے گفتگو میں دلائل سے اپنے آپ کو دیگر اولوالعزم پیغمبروں سے افضل ثابت کیالیکن تاریخ اسلام کا نہایت المناک باب ہے کہ کائنات کی اس عظیم ترین ہستی کے جنازے میں فقط چند افراد شریک ہوئے جن کی تعداد 10 سے کم تھی۔