صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں آج نواسہ رسول (ص) حضرت امام حسین (ع) اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر ماتمی جلوس نکالے اور مجالسِ عزا منعقد کی جا رہی ہیں
پروگرامز میں نوجوانان ملت نے کربلا اور عزاداری کے حوالے سے تحریری جوابات نہایت ذوق و شوق سے دیئے۔
ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی آزادیوں اور حقوق پر قدغن نہ لگائے اور ان کی آزادیوں کی حفاظت کرے اور عزاداری و ماتم داری کے جلوسوں اور مجالس کے انعقاد کے سلسلے میں اپنی انتظامی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے درباروں پر عرس ہوتے ہیں، ہزاروں عقیدت مند جاتے ہیں، کوئی اجازت لیتا ہے، نہ حکومت انہیں روکتی ہے، تو یہ صرف حسینؑ سے دشمنی ہے؟ حکومت اس بات کا جواب دے کہ صرف بغض حسینؑ میں ہمارے جلوس ہی کیوں روکے جاتے ہیں؟
علامہ راجہ ناصرعباس کی کال پر ملک بھر سمیت گلگت میں ملت تشیع اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور اپنے قائدین کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی،
جامعہ امام جعفر صادق ع راجن پور و جامعہ زینبیہ س راجن پور کے پرنسپل مولانا محمد تقی فاضل نے ایک تعزیتی اجلاس نے آیت اللہ حسن زادہ آملی کے انتقال پر دلی رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیۃ اللہ حسن زادہ آملی ایک ہمہ جہت آفاقی شخصیت تھے
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ایک نئی مثال قائم کرنے کی اپیل کی اور امید کا اظہار کیا کہ حکومت و انتظامیہ عزاداری کے راستے میں رخنہ اندازی سے گریز کرتے ہوئے اب تک ہونے والے عزاداری مخالف تمام تر اقدامات واپس لے گی
مفسر قرآن علامہ شیخ محسن نجفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم وطن عزیز سے محبت کرتے ہیں اور پاکستانی بھی بہترین شہری ہیں، ہمیں اس وطن کے رکھوالوں سے شکایت ہے، لیکن ملک کی نظریاتی و جغرافیائی محافظوں سے بھی محبت ہے۔ ہم سے بہتر کوئی محب وطن نہیں، وطن سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اگر کوئی اندرونی یا بیرونی سازش ہوتی ہے تو ہم اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں قومی کانفرنس برائے دفاع عزاداری و تحفظ حقوق تشیع، بعنوان علماء و ذاکرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ ریاض نجفی کا کہنا تھا کہ ملک کے محافظین کا سب سے بڑا نشان، نشان ِحیدر ہے۔ یزیدیت مٹ جائے گی، مگر عزاداری نہیں رکے گی۔