صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آغا سید راحت حسین الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اہلبیت کی محبت و مودت کو مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اس حوالے سے نبی اکرم (ص) نے اپنے ارشادات اور عمل کے ذریعے بتا دیا ہے کہ تمام مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق جو شخص نماز میں درود پاک نہ پڑھے اس کی نماز ہی قبول نہیں،
دینی تعلیمی مراکز کے لئے مواقع آستان قدس رضوی کے متولی نے دینی تعلیمی مراکز کے لئے مواقع اور ساتھ ہی درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور دینی احکامات سے دلچپسی رکھنے والوں خاص طور سے نوجوانوں کی بڑی تعداد دینی مراکز اور علماء کے لئے ایک بڑا موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ دینی علوم اور دین کی تبلیغ کر سکتے ہيں ۔
علامہ سید احمد اقبال رضوی نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آئینی اختیارات سے تجاوز باعث تشویش ہے۔انہوں نے کہاکہ علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی اتحاد بین المسلمین کے کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،
قائد ملت جعفریہ حضرت آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی خصوصی ہدایت و سرپرستی میں اور زہرا اکیڈمی، کراچی کے زیر اہتمام گاوں پیارو خان مغیری تحصیل قمبر میں جامع مسجد علی الاکبر الحسین علیہ السلام کی تعمیر نو کی گئی
انہوں نے کہا کہہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں ہم نے ہمیشہ وطن سے وفاداری اور امام حسین ؑ کی عزاداری کو ہی ترجیح دی ہے ، میں پاکستان میں بسنے والے اور محبت کرنے والے شیعہ سنی مسلمانوں سے اپیل کروں گا کہ پرامن رہیں اور اگر میری محبت میں گھروں سے باہر نکلے ہوئے ہیں تو اپنےق۱ گھروں کا چلے جائیں،کل صبح انشاء اللہ یا تو میں کراچی پہنچوں گایا خمسہ مجالس کی پانچویں مجلس سے خطاب کروں گا۔
قومی اسمبلی میں مناسب نمائندگی کے لیے گلگت بلتستان کے عمائدین سے تجاویز و آرا کا تبادلہ کیا جانا چاہئے
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کی مخالفت کرنے والوں نے اس عظیم قائد کے خلاف بھی تکفیری نعرے بلند کئے وہ آج بھی تکفیری سوچ اور نعروں کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان نفرتیں پھیلا رہے ہیں ہمیں متحد ہو کر نفرتوں کے سوداگروں کو شکست دینی ہوگی جو قائد اعظم کے پاکستان کی شناخت پر حملہ آور ہیں۔
12 ستمبر 1948 کو نماز فجر سے پہلے محمد علی جناح کے جسد خاکی کو حاجی ہدایت حسین عظیم اللہ عرف حاجی کلو نے غسل میت دیا۔
آج ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ہم قائداعظم کے روشن اصولوں پر عمل پیرا ہیں؟ اور جن مقاصد کے لیے عزت وناموس اور جانوں کے نذرانے دئیے گئے وہ حاصل ہوگئے ہیں؟ قائد اعظم نے جس ملک کی بنیاد ڈالی تھی اس میں جمہوریت کو اساسی حیثیت حاصل تھی، عدل وانصاف، امن وامان سے بھرپور معاشرے کا قیام تھا،عوام کو ان کے بنیادی اور شہری حقوق و آزادیوں کی پاسداری کا یقین دلایا گیا تھا