صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی شخصیت کسی مخصوص جماعت یا طبقے کے لیے نہیں بلکہ وہ رحمت العالمین ہیں۔اگر پوری دنیا کے لیے کوئی رول ماڈل ہے تو وہ ہمارے نبی ﷺ کی ذات مقدسہ ہے
جامعہ امام صادق کے پرنسپل اور امام جمعہ کوئٹہ علامہ محمد جمعہ اسدی نے اس اہم اجلاس میں شرکت کی اور وفاق المدار شیعہ پاکستان کی نمائندگی کی۔
سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر نے کہا کہ سائنس اور مادی ترقی کے بل پر کھڑے نظام زمین بوس ہو رہے ہیں، مستقل اسلام کا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر او جامعتہ المنتظر کے ناظم اعلیٰ علامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ مدارس دینیہ اسلام کے قلعے اور معاشرے کی اہم ضرورت ہیں۔دینی مدارس صدیوں سے اسلامی معاشرے کی دینی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں ۔علوم قرآن و حدیت ، فقہ اسلامی اور عصری علوم آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لئے اسلامی تعلیمی ادارے اور منصوبے جاری ہیں ۔
میلاد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ نبوت کے دعویداروں کو مغرب پناہ دیتا ہے اور شعائر اسلام کی توہیں کرنیوالوں کے پیچھے بھی یہود و نصاریٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل اورجامعہ المنتظر کے مہتم اعلیٰ علامہ محمد افضل حیدری نے دیگر علماءکے ہمراہ ماڈل ٹاون میںسی بلاک سے برآمد ہونے والے جلوس کا ایچ بلاک بس اسٹاپ پر استقبال کیا ۔سید کلیم الرحمن ترمذی عرف گوگی شاہ کی قیادت میں شرکا ئے جلوس کو پھولوں کے ہار پہنائے اور ان پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔
سابقہ ڈی جی سائنس اور ٹکنالوجی حکومت پاکستان معروف سائنٹس ڈاکٹر باقر رضا نے بلتستان کے ممتاز تعلیمی و تربیتی ادارہ جامعہ طوسی بلتستان کا دورہ کیا-
علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خاتم المرسلینؐ اور حضرت امام جعفر صادق ؑکے میلا د کا جشن منانے کا سب سے بہتر اور موزوں طریقہ یہ ہے کہ امت مسلمہ بالخصوص اور عالم انسانیت بالعموم حضور اکرم ؐاور خانوادہ رسالت ؐ کی سیرت اور فرامین پر عمل کرے اور اپنی انفرادی‘ اجتماعی‘ روحانی‘ دینی و دنیاوی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے حضور اکرم ؐ کے اسوہ حسنہ کو نمونہ عمل قرار دے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم (ص) کی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔