رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
لیاقت بلوچ، علامہ عارف واحدی، یعقوب شیخ، رضیت باللہ، ثاقب اکبر اور مفتی اظہر محمود نے پشاور کا دورہ کیا۔ جماعت اسلامی کی میزبانی میں صوبائی کابینہ کی تشکیل نو کے لیے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
اس موقع پر شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر علامہ حمید حسین امامی، بزرگ عالم دین علامہ خورشید انور جوادی، علامہ سید قیصر عباس الحسینی اور دیگر علمائے نے ان سے ملاقات کی۔
جامعۃ الکوثر کے استاد، ممتاز عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین محمد علی فاضل رحمۃ اللہ علیہ کے چہلم کی مناسبت سے جامعہ الکوثر اسلام آباد میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالم اسلام متحد ہو کر بصیرت اور دشمن شناسی اپناتے ہوئے اپنے مشترکہ دشمن کو شناخت کریں، جو عالم اسلام اور پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، پس ہم صرف وحدت سے اپنے دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ان کے ناپاک ارادوں کو بھی ناکام و نامراد کر سکتے ہیں۔
جامعہ درسگاہ امام رضا علیہ السلام میں بچوں کا سالانہ امتحان علما کی نگرانی میں بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی خصوصی ہدایت و سرپرستی میں اور علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی و زہرا اکیڈمی کراچی کی طرف سے اور سید الشہداء ویلفئیر سوسائٹی اسکاوٹس کے زیر اہتمام ہزارہ ٹاون کوئٹہ 16 جوڑوں کی شادی کی اجتماعی تقریب کا انعقاد ہوا۔
رحمت اللعالمین و پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال رضوی انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مابین دشمن لاکھ اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرے لیکن توحید اور رسالت وہ نقاط ہیں جن پر امت یک جان اور قلب واحد ہوتی ہے. پاکستان کی ترقی اتحاد بین المسلمین کے بغیر ناممکن ہے.
یکجہتی کونسل وسطی پنجاب کی تنظیم نو کے لئے صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر دامت برکاتہ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ھوا،انتخابات کرانے کے لیے مرکزی کمیٹی نے اپنی نگرانی میں انتخابات کرائے
علامہ شبیر میثمی نے کہاکہ شہید آیت اللہ نمر کے بیٹے کل زندان سے دس سال بعد آزاد ہوئے ہیں۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھانجے یا بھتیجے ہیں لیکن میری اطلاع کے مطابق وہ بیٹے ہیں اور آزاد ہوئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پہلا قدم ہے جو سعودی حکومت نے مثبت رکھا ہے ورنہ بہت سے جوانوں کو بھی شہید کیا ہے۔ یہ آثار بتا رہے ہیں کہ ایران اور سعودیہ کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ اور اگر یہ تعلقات بہتر ہو جائیں تو اسلامی دنیا کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔