صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علامہ اقبال کی شاعری میں موجود پیغام نے نا صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحرک اور فعال بنایا۔
شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک جعفریہ پاکستان کی نومبر 2016ءکے سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔جسٹس ظہیر جمالی نے علا مہ ساجد علی نقوی کی اپیل پر ملت جعفریہ کی نمائندہ جماعت ٹی جے پی کی بحالی کا حکم جاری کیاتھا ۔
کانفرنس میں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ اقبال بہشتی، صوبائی صدر ایس یو سی علامہ حمید امامی، ایم ڈبلیو ایم کے علامہ جہانزیب جعفری، علامہ ارشاد علی مدرسہ شہید عارف الحسینی کے پرنسپل علامہ نذیر حسین مطہری اور دیگر شریک ہوئے۔
لاہور میں منعقدہ اجلاس سے خطاب میں شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین سبزواری نے کہا کہ جب تک سودی نظام معیشت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر لیا جاتا، اسوقت تک بہتری ممکن نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ریاست مدینہ کے دعویدار ہی اسکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
علامہ واحدی صاحب نے کہا کہ آج پورے ملک میں یہ مسرت بھری خبر ہے کہ ہنگو کی سرزمین سے امت کو بہت بڑا اور عالیشان اتحاد کا پیغام دیا جارہا ہے اس عظیم اجتماع سے فرقہ پرست اور تکفیری عناصر کی فرقہ واریت پھیلانے کوششیں ناکام اور امت کے اتحاد و اتفاق کی کاوشیں کامیاب ہو رہی ہیں
جامعة المصطفی لاہور میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سالانہ کنونشن جہد مسلسل و عزم نوکی آخری نشست میں نئے میر کارواں کا انتخاب عمل میں آیا۔
صدر مولانا سید صفدر علی شاہ نقوی، نائب صدر مولانا احمد علی روحانی بمعہ دیگر کابینہ اراکین نے مرحومہ کیلئے مغفرت کی دعا اور پسماندگان کو تعزیت و تسلیت پیش کی۔
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن جامعہ کراچی یونٹ و دفتر مشیر امور طلبہ کی جانب سے یوم مصطفی (ص) کا انعقاد پارکنگ ایریا نزد ایڈمنسٹریشن بلاک میں کیا گیا، پروگرام کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے کی، جس میں اساتذہ سمیت طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس شجاعت علی خان نے کہا عدالت کو کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں، عدالتی حکم پر عمل چاہیے، کیوں نہ وزیراعلیٰ کو بلالیں، ان سے پوچھتے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو کا اس بارے میں کیا موقف ہے، اگر وہ اس بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے تو درخواست واپس لے لی جائے۔ عدالت نے لا افسر کو کہا کہ وہ چیف منسٹر کو پیر کے روز بلا لیں۔