صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
معاشرے کی اصلاح اور جوانوں کی تربیت کے لئے یہ شعبہ انتہائی اھمیت کا حامل ھے معاشرے میں اخلاق اسلامی کو غالب کرنے کے لئے ھمیں مدارس،مساجد اور امامبارگاہوں کو بہتر انداز میں فعال کرنے کی ضرورت ھے،
بلتستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین علامہ شیخ حسن فخرالدین کو وادی حسین قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔مرحوم کی نماز جنازہ امام بارگاہ جعفر طیار ملیر کراچی میں ادا کی گئی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے بلتستان سے تعلق رکھنے والے معروف محقق،بزرگ عالم دین علامہ شیخ حسن فخرالدین کی وفات پر گہرے دلی افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ علامہ شیخ حسن فخرالدین کی رحلت مکتب تشیع پاکستان کا بڑا علمی نقصان ہے.
وفد کی قیادت نومنتخب مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ شبیر حسن میثمی نے کی، نومنتخب ایڈشنل جنرل سیکرٹری علامہ سید ناظر عباس تقوی، مرکزی نائب صدر حسنین مہدی رضوی، صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ سید رضی حیدر زیدی، صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی نقوی، صوبائی نائب صدر علامہ عابد عرفانی، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ کامران حیدر عابدی سمیت دیگر صوبائی و ڈویژنل عہدیداران اور علماء کرام بھی ہمراہ تھے۔
علامہ حسن فخرالدین کا تعلق بلتستان کے علاقہ کواردو سے تھا اور کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔
علامہ شبیر میثمی نے آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی سے جامعةالمنتظر میں ملاقات کی ، ملی اور تنظیمی امور پر ان سے رہنمائی حاصل کی۔
نامور عالم دین علامہ شیخ حسن جعفری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وقت کی ضرورت ہے کہ لوگ مسجدوں کو آباد کریں۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ آج مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہے، جبکہ موذن کی اذان ہر مسلمان کیلئے ہے ۔ ملک کے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مساجد سے جڑیں، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد و نصرت مانگیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لاقانونیت امن کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے حکام کے خلاف حکومت کارروائی کرے۔
علامہ شیخ شفاء نجفی نے اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ ناپ تول میں کمی کرنے والا مومن نہیں آیات قرآنی سے ا ستفادہ ہوتا ہے کہ کم ناپنے تولنے والا آخرت اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتا ۔ اگر وہ قیامت کا ایمان ویقین رکھتا ہوتا، بلکہ گمان بھی رکھتا ہوتا تو اسے احساس ہوتا کہ جتنا مال اُس نے بے ایمانی کر کے کم دیا ہے اس کا قیامت کے دن حساب ہوگا۔ اس مال کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگریہ احساس ہوتا تو وہ کبھی ایسی خیانت نہ کرتا اگر ایمان ہو تو وہ یہ خیال رکھتا کہ اگرچہ وہ حقدار کو غافل کر کے اسے مطلوبہ مال سے کم لے سکتا ہے۔