صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس لیٹر میں آیا ہے کہ آپ کی سدری زحمات قیمتی وقت صرف کرنے کی تہہ دل سے قدر دانی کرتے ہوئے خاطر خواہ مہمان نوازی نہ کرنے پر عذر خواهی قبول کریں.
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان ایک با اعتماد ادارہ ہے اور ہم ان کی کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن ہیں، امید ہے کہ یہ قیادت پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں مدارس کی ترقی کیلئے کام کرینگے
شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماء، خطیب اور پرنسپل جامعۃ النجف ڈسکہ علامہ سبطین سبزواری نے جامعۃ المنتظر لاہور میں وفاق المدارس کے اجلاس کے دوران انکی گفتگو سے متعلق پیدا ہونیوالی غلط فہیمیوں سے متعلق خصوصی طور پر ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔
علامہ محمد امین شہیدی نے کہاکہ مہدویت کا بنیادی تصور"زمین سے ظلم کے خاتمہ اور اللہ کی حکومت کاقیام"ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ نظام مرجعیت اور ولایت فقیہ ہماری اساس ہے۔ عصر غیبت کبریٰ میں میں فاسق و فاجر طاغوتی حکمرانوں کی بجائے آئمہ اہل بیت نے ہمیں عادل فقیہ کی سرپرستی میں زندگی گزارنے کا کا حکم دیا ہے۔ اسی کا نام ولایت فقیہ ہے۔
اسلامی تحریک پاکستان کے سینیئر رہنما شیخ میرزا علی نے کہا کہ نلتر کے سیاحتی مقام پر ایک عرصہ سے خوف اور سازش کے بادل منڈلا رہے ہیں جو نیک شگون نہیں ہے حالیہ واقعہ نہایت افسوس ناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے.
انہوں نے کہا کہ پندرہ شعبان کی طلوع فجر کے موقعہ پر امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت ہوئی جن کی برکتوں سے ہم پر بارش نازل ہوتی ہے، روزی ملتی ہے، ہدایت ملتی ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ غیبت میں امام سے استفادہ ایسا ہی ہے جیسے بادلوں کی اوٹ سے سورج روشنی کا فائدہ پہنچاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو اللہ نے آسمانوں پر اٹھا لیا لیکن حضرت امام زمانہ علیہ السلام زمین پر ہی موجود ہیں اور ہماری رہنمائی فرماتے ہیں اور ہماری مدد کرتے ہیں۔
وفا ق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگانے والوں نے نئے مدرسہ بورڈ بنا کر مذاہب کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔جب ریوڑیاں بٹ رہی ہوں تو لینے والے مل ہی جاتے ہیں۔پاک فوج قابلِ تعریف اور اس کا کردار قابلِ فخر ہے۔
حجۃ الاسلام سید جواد موسوی نے کہا اسی لیے امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں روایات ہیں کہ امام کے ظہور میں سب سے زیادہ مددگارجو طبقہ ہوگا وہ جوانوں کا ہوگا کیونکہ امام کو سب سے زیادہ ضرورت بھی اور محبت بھی ایسے جوانوں سے ہے جو جسمانی طور پر اور روحانی طور پر طاقتور ہوں اور مضبوط افکار کے مالک ہوں اور وہ امام کے ظہور کے راہ میں کام آسکیں امیدیں بھی سب سے زیادہ جوانوں سے ہی ہیں.