رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
انہوں نے کہا کہ خداوند تعالیٰ نے اپنی مخلوق انسان کے لئے تعلیم و تربیت کا خود انتظام کیا ہے ۔ تعلیم و تربیت کے لئے آسمانی کتب اور تربیت کے لئے اپنے رسول بھیجے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے رسول کودو قسم کے علم دئیے ۔
علامہ سبطین سبزواری نے یا د دلایا کہ ایران اپنے حصے کے پائپ لائن بھی بچھا چکا ہے اور پاکستان کو اپنی سرزمین پر لائن بچھانے کے لئے قرض دینے پربھی تیار ہے مگر حکمرانوں کی نااہلی اور امریکہ کا خوف قومی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔
قائد ملت جعفریہ نے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور مرکزی وفد کو ہدایت کی کہ آئین میں تنظیم کے مسائل کا حل واضح ہے، لہذا آئین کی روح سے تنظیمی معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔
وزیراعظم عمران خان نے پانچ نئے قونصل خانوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ وزارت خارجہ نے اٹلانٹا، میونخ، ناپولی، نجف اور کربلا میں قونصل خانے کھولنے کی تجویز دی تھی۔
مسنگ پرسنز کا مسئلہ ایک مثبت انداز میں آئین ،دستور اور قانون کے مطابق حل ہونا چاہیے اور اس میں تاخیر نقصان دہ ہوسکتی ہے
مرکزی کنونشن میں شرکت کیلئے اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی سمیت جید علمائے کرام، سینیئرز اور سابقین کو دعوت دینے کا سلسلہ جاری ہے، تین روزہ مرکزی کنونشن میں پاکستان بھر سے طلباء اورسینئرز شرکت کریں گے،
ضلع کے تنظیمی احباب نے اپنی تنظیمی کارکردگی اور مسائل بیان کئے۔ پھر مرکزی راھنماوں نے خطاب کیا۔
فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے رہنماؤں کے جاری کردہ مذمتی بیان میں برطانیہ کی جانب سے حماس کو دہشتگرد قرار دینے پر کہا ہے کہ حماس فلسطین اور فلسطینیوں کی نمائندہ جماعت ہےاور فلسطین کے ساتھ ساتھ پورے عالم اسلام کی جان ہے، جبکہ اسرائیل کی دہشتگردی کی پردہ پوشی کرنے والا برطانیہ جس نے اعلان بالفور کے ذریعے سب سے بڑی دہشتگردی کی جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کا قتل عام ہوااسرائیل کے مظالم میں برابر کا شراکت دار ہے۔
بزرگ عالم دین، ممتاز مناظر اسلام، نامور مصنف و محقق اور چالیس ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب، المعجم الکبیر فی اسماء الرجال کے مولف علامہ شیخ محمد حسن فخر الدین قدس سرہ کے انتقال سے علمی و روحانی حلقوں میں جو خلا پیدا ہوگیا ہے وہ صدیوں تلک پر نہ ہوپائے گا۔