دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
علامہ محمد حسین اکبر نے وفاقی و کے پی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر حالات کنٹرول سے باہر ہوئے تو حکمرانوں کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کے تمام شیعہ سنی ایک پیج پر ہیں اور سب کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ راستے کھولے جائیں اور سفر محفوظ بنایا جائے
انہوں نے کہا کہ کرم کے عوام کو مسلسل نشانہ بنانا، اہم راستوں کا بند ہونا اور مقامی حکام کی جانب سے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکامی نے پوری آبادی کو تشدد اور محرومی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے
علامہ محمد رمضان توقیر نے جاری دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت اورمظلومین پارہ چنار کے جاری دھرنے کی حمایت کرتےہیں۔ ہمارااحتجاج مظلومین پارہ چنار سے اظہار یکجہتی اور بے بس و بے حس حکومت کے خلاف ہے۔ ہمارا مقصد کسی فرقہ اور شہریوں کو تکلیف دینا نہیں ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ راستے بند کر کے دباو ڈالا جا رہا ہے کہ ہماری مرضی کے پیپر پر دستخط کرو، ریاستی رٹ کو نہ ماننے والے دہشت گردوں اور عام شہریوں کو ایک نظر سے مت دیکھو، ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ٹل پارہ چنار روڈ کو کھولا جائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی رہنما نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے جرگے، آل پارٹیز کانفرنسز اور ان میں ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد کرانے میں حکومت ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار کو مجروح کر رہا ہے۔
احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ پاراچنار میں عوام کو سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا، ملک میں دہشتگرد آزاد گھوم رہے ہیں، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی بات کرنا جرم بن گیا ہے۔
وائس چئیرمین ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ اس ظلم کیخلاف تاحال مجرمانہ خاموشی اختیار کرکے پورے پاکستان کی سڑکوں کو بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اگر پارا چنار کے عوام کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو کل پورے ملک میں دھرنے شروع ہو جائیں گے
انجمن امامیہ بلتستان کے زیر اہتمام نماز جمعہ کے بعد مرکزی احتجاجی ریلی مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو سے یادگار شہداء تک نکالی جائے گی۔ علماء، اکابرین، سرکردہ گان، نوجوانان اور جوانان بلتستان شرعی زمہ داری سمجھتے ہوئے شرکت کریں اور بلتستان میں ایک منظم احتجاج ریکارڈ کرا کر ایک نئی تاریخ رقم کریں۔
وفاقی وزیر داخلہ سے اپنے ٹیلیفونک رابطے کے دوران معروف عالم دین اور سربراہ جعفریہ الائنس نے کہا کہ پاراچنار میں ادویات اور غذائی اجناس کی رسائی کو ممکن بنایا جائے ورنہ حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔