ایرانی وزیر خارجہ کی دہلی میں برکس اجلاس میں شرکت، 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات
























جن جگہوں پر اوامر الہی ،خصوصا نوافل بجا لائےجائیں، وہ نورانی ہو جاتی ہیں اور قیامت کے دن نورانی شکل میں آکر اس عمل کی گواہی بھی دیتی ہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک جگہ عبادت نہ کیا کرو، بلکہ مختلف مقامات پر عبادت کرنے کی کوشش کرو۔ یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے گھر کے مختلف گوشہ و کنار میں مختلف اوقات میں عبادت اور نیک اعمال بجا لائیں تاکہ ان کا پورا گھر دن رات نورانی بن کررہے اور آسمان میں رہنے والوں کے لئے نمایاں نظر آتا رہے۔
تحریر :حجت الاسلام سید احمد رضوی اَللّهُمَّ لاتُؤاخِذْني فيہ بالْعَثَراتِ وَاَقِلْني فيہ مِنَ الْخَطايا وَالْهَفَواتِ وَلا تَجْعَلْني فيہ غَرَضاً لِلْبَلايا وَالأفاتِ بِعزَّتِكَ يا عِزَّ […]
اس دعا میں زہد اور قناعت پر زور دیا گیا ہے۔ زہد کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار اور ارادے کے ساتھ کسی چیز سے روگردانی کرے ، اس کی طرف مائل نہ ہو اور اس چیز کو بے وقعت اور بے اہمیت قرار دے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو ایک بے وقعت قیمت کے بدلے میں بیچ ڈالا؛ یعنی : وہ اس قیمت کی جانب مائل نہیں تھے۔ اس کے لیے زہدکا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔