مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























انہوں نے کہا کہ ملک سنگین ترین دور سے گزر رہا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال اور سماجی سرگرمیوں میں انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھنا ہو گا۔
بعض اوقات غیر ملکی یونیورسٹی یا اساتذہ کی طرف سے اجتماعی محفل کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پہلے سے معلوم ہوتاہے کہ ایسی محافل میں شراب ہوتی ہے۔ایسے جشن میں شرکت کا ارادہ رکھنے والے یونیورسٹی کے طلبا کی شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
"حسن نوریان" نے آج جمعہ کے دن اپنے ایک بیان میں کہاکہ ایرانی حکومت اور عوام خطے کی اقوام کے مشترکہ دشمنوں کی طرف سے کسی بهی قسم کی بدامنی، انتشار اور خوف پهیلانے والے دہشت گردی پر مشتمل اقدامات کی مذمت کرتے ہیں.
حضرت حمزہ علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہمارے پاس فلسطین اور اسلام کے دیگر مقامات پر حضرت حمزہ سلام اللہ علیہاجیسا لیڈر ہوتا تو ہم امت مسلمہ کی موجودہ ذلت کا کبھی مشاہدہ نہ کرتے۔
انہوں نے مسئلہ فلسطین کو دنیا میں اجاگر کرنے کے حوالے سے شیرین ابوعاقلہ کو غاصب صہیونی حکومت کے خلاف میڈیا کی تحریک کا پرچمدار قرار دیتے ہوئے کہاکہ خواتین کو اس میدان میں شمولیت اختیار کرنی چاہیئے، آج دنیا میں خواتین صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے آبادی کے شعبے کے کارکنوں کے نام اپنے پیغام میں ملک میں افرادی قوت کو نوجوان بنائے جانے پر زور دیا ہے۔ آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بدھ کے روز ایک پیغام میں آبادی کے شعبے کے فرض شناس کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افزائش نسل کے لیے کوشش، ملک میں افرادی قوت کو نوجوان بنائے رکھنے اور آبادی کے بوڑھے ہونے کے ہولناک مستقبل سے نجات دینے کی چارہ جوئي کو ایک حیاتی پالیسی اور سب سے ضروری ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
غیر مسلم محققین نے امام جعفر صادق کے بیان کئے علوم کو شیعہ مکتب کی بقاءاور ترقی کا راز قرار دیا ہے۔ عِلمی مکالمے کے لئے شام سے آئے بنو اُمیہ سے منسلک عالِم کو آپؑ نے اپنے ایک شاگرد ہِشام سے گفتگو کرنے کا فرمایا جسے اس نے اپنے علمی مقام کے خلاف سمجھا تو امام نے فرمایا” اگر تم اُس پر غالب آ گئے تو گویا مجھ پر غالب آ گئے“۔ہشام نے ایک مشہور مغالطہ ” قرآن ہی کافی ہے“ کے ازالہ کے لئے اُس سے پوچھا” اگر قرآن اور اُمت کے درمیان اختلاف ہو جائے تو کون فیصلہ کرے گا؟“
یہاں ہم اختصار کے ساتھ رہبر معظم کی چند بصیرت سے لبریز اصطلاحات کو بیان کریں گے۔ یہ اصطلاحات تمام اسلامی دنیا کے ممالک ، عوام اور نوجوانوں کے علاوہ عالم انسانیت اور ہر مستضعف طبقے کے لٸے کافی مفید اور سودمند ہیں۔ بالخصوص عالم استکبار کی جولان گاہ بنے ہمارے ملک کے لٸے نہایت مفید ہے۔
مقررین نے مسلم اُمّہ کے حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی نمک خواری کرنے کی بجائے فلسطینیوں کے حق واپسی اور بنیادی حقوق کے دفاع کے لئے عملی اقدامات انجام دیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملہ پر نظر ثانی کریں۔