غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























حجت الاسلام محمد حسین حیدری نے ڈاکٹر ریحان اعظمی کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم شاعرکی زندگی رسول اور آل رسول صل اللہ علیہ وآل وسلم کی محبت سے سرشار رہی آپ کا کلام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی مرثیہ گوئی اور مرثیہ نگاری میں حیران کن روانی تھی۔
شاعر اہلبیت ؑ ڈاکٹر ریحان اعظمی کی نماز جنازہ مولانا اسد علی شاکری کی اقتداء میں ادا کردی گئی۔ ہزاروں چاہنے والوں نے شرکت کی۔
مرثیہ گو شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی 26 جنوری کی غمناک صبح کو دنیا سرائے سے کُوچ کر گئے ۔وہ مرثیہ نگاری سے پہلے شوبز سے وابستہ تھے پھرانہوں نے غزل اور گیت کو چھوڑ کر خود کو صرف مرثیہ نگاری تک محدود کرلیا تھا۔ جیسے لکھنو کے معروف مرثیہ گو شاعر میر انیس نے غزل کو ترک کرکے صرف مرثیہ گوئی میں اپنا لوہا منوایا تھا ۔
امام جمعہ نیویارک علامہ سندرالوی نے کہا کہ مرحوم شاعر نے خدمت مکتب اہل بیت ؑ میں زندگی کا کوئی لمحہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر، عقیدت میں ڈوبے ہوئے ذاکر اور غیرت مند سید زادے تھے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور مہتمم اعلیٰ جامعۃ المنتظر لاہور علامہ افضل حیدری نے ملک کے نامور ادیب، مصنف و شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے علم و ادب کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔