غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلام سرور کائنات خاتم الانبیاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاست مدینہ میں قانونی مساوات قائم کی۔ جس میں امیر اور غریب سب برابر تھے۔ہمارے ہاں بھی قانون بنائے جاتے ہیں کہ جن میں امیر بچ جاتے ہیں اور غریب سزا کاٹتے رہتے ہیں۔
لاہور میں منعقدہ اجلاس سے خطاب میں شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین سبزواری نے کہا کہ جب تک سودی نظام معیشت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر لیا جاتا، اسوقت تک بہتری ممکن نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ریاست مدینہ کے دعویدار ہی اسکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں مضبوط قوم اور ترقی یافتہ ملک بننے کےلئے خود داری اور خود مختاری کے نظریے پر عمل لازم ہے، افسوس عالمی بڑوں کی بیٹھک میں مسئلہ کشمیر پر لفظ تک نہیں بولا گیایہ خارجہ پالیسی کی کمزوری نہیں تو کیا ہے؟ریاست مدینہ کا نام لینے والوں کے دور میں بنیادی حقوق ا ور شہری آزادیوں پر قدغنیں اور زیادتیوں کا سلسلہ جاری یہ داخلہ پالیسی کی ناکامی نہیں تو کیاہے؟
حضرت آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ریاستِ مدینہ نے وحدت ایجادکی، تفریق نہیں۔ بھائی چارہ قائم کیا،لوگوں کو تقسیم نہیں کیا۔ حکومت اپنے ریاستِ مدینہ کے دعوو ں پر غور کرے۔تمام مسالک کے دینی مدارس کے بورڈز کے اتحاد کو دنیا بھر میں سراہا جاتا تھا کہ ہر اسلامی مکتبہ فکر کا ایک بورڈ ہے ، اتحاد تنظیمات مدارس کے پلیٹ فارم سے آپس میں متحد ہیں۔