غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























ہم کرگل لداخ کے عوام افغانستان مظلوم عوام کے ساتھ ہیں اور ظالموں کے خلاف انکے حامی ہے۔ہم شہدائ افغانستان کے خانوادوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں انکے غم میں برار کے شریک ہیں۔
مرحوم کی خدمات وطن عزیز کیلئے خاص طور پر لائق تحسین ہیں، اہل وطن مرحوم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور جو خدمات انہوں نے انجام دیں، ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا، حکومت کی جانب سے ان کے افکار و نظریات کے پرچار کے کام میں تیزی لائی جائے
قائد ملت جعفریہ کا کہنا تھا کہ ہماری دعا ہے کہ خداوند کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں جوار معصومینؑ میں جگہ عنایت کرے آپ اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر استحکام دینے اور ایٹمی قوت بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کو ہمیشہ قومی ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات ملک و قوم اور ان کے اہلخانہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے نماز جنازہ کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ تیز بارش میں فیصل مسجد اور باہر سڑکوں پر لاتعداد لوگوں کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت کے لئے آتے دیکھ کر پتہ چل رہا ہے کہ یہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔ مسجد سے واپسی پر کم سے کم ایک میل تک لوگ مسجد کی طرف جاتے نظر آ رہے تھے جو رش کی وجہ سے وقت پر نہیں پہنچ سکے۔
افغانستان کے صوبۂ قندوز کی ایک مسجد میں دھماکے اور بڑی تعداد میں نمازیوں کی موت کے دلخراش سانحے پر آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے ایک پیغام میں اس بھیانک جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دیے جانے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام پر زور دیا ہے۔
ل مسالک علماء بورڈ کے زیراہتمام ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے مختلف مسالک کے مدارس کے طلباء کے مابین مقابلہ حسنِ قرآت کا انعقاد کیا گیا۔ جامع مسجد کبری نیو سمن آباد لاہور میں مدارس کے طلباء کے مابین مقابلہ حسن قرآت میں چیئرمین کُل مسالک علماء بورڈ مولانا محمد عاصم مخدوم نے پوزیشن حاصل کرنیوالے طلباء میں انعامات تقسیم کیے۔
طلاب کرام سے گزارش هے چونکه امتحانات نومبر کے آخری ایام میں هوں گے لھذا ابھی سے درج ذیل کتابوں کی تیاری رکھیں۔
مجلس عزا سے خطاب میں مولانا سید محمد ظفر نقوی نے پیغمبر اکرم کی عظمت و فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ حضور نے ایک شخص سے گفتگو میں دلائل سے اپنے آپ کو دیگر اولوالعزم پیغمبروں سے افضل ثابت کیالیکن تاریخ اسلام کا نہایت المناک باب ہے کہ کائنات کی اس عظیم ترین ہستی کے جنازے میں فقط چند افراد شریک ہوئے جن کی تعداد 10 سے کم تھی۔