غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























مجلس برسی امام خمینیؒ سے علامہ مرزا یوسف حسین نے خطاب کرتے ہوئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امام خمینی ایک الہی شخصیت تھے، امام خمینیؒ کے افکار معاشرے کو زندگی دینے والے افکار تھے، ان کی فکر مسلمان امتوں کے لئے نجات کا باعث ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ امام خمینیؒ کے نظریات کے پرچار کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں علامہ شہنشاہ نقوی کا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور پاکستان سے وفاداری ہمارا نصب العین ہے اور حسینیت و پاکستانیت ہماری پہچان و تعرف ہے، تشکیلِ پاکستان سے تعمیر پاکستان تک ہمارے بزرگوں کا قابلِ ذکر کردار ہے لہٰذا وطن سے پیار ہمارے رگ و پے میں بسا ہوا ہے۔
اس ملاقات میں وزیر خارجہ نے کربلائے معلی میں پاکستانی زائرین کیلئے ایک مرکز کے افتتاح کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراق ہمارا دوست ملک ہے۔
برسی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ گذشتہ ایک ہزار سال میں تاریخ انسانی نے حضرت امام خمینی جیسا عظیم انسان نہیں دیکھا۔ وہ اپنے علم و تقویٰ، شجاعت و بصیرت اور اعلیٰ انسانی صفات کے باعث تاریخ انسانی کے منفرد کردار ہیں۔
برازیلی وزیر سیاحت محترمہ دانیلا کارنیرو(Daniela Carneiro)، گذشتہ روز اسلامی حجاب کے ساتھ نمایشگاہ کا دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امام خمینی صرف ایک عالم نہیں بلکہ کردار ساز تھے انہوں نے مظلوم اور محروم طبقے کی آواز بن کر دنیا میں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی آپ نے سالوں سال بہادری سے مقابلہ کرکے شہنشاہی نظام کا تختہ الٹایا جس کے بعد ایران میں اسلامی جمہوریہ کے عظیم اور مضبوط نظام کو قائم کردیا
تقریب کے دوران کراچی میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ اجتماع کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور اس کے بعد مقررین نے امام خمینیؒ کی علمی اور عملی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین کے سامنے خوبصورت نکات پیش کئے۔
اس موقع پر تقریب جشن سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تنظیم علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حضرت سیدہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت یکم ذی القعدہ کو یوم دختر یعنی بیٹیوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ یکم تا گیارہ ذی القعدہ کو عشرہ کرامت کے طور پر مناتے ہیں۔
سعودی وزارت حج کا اس بیان میں کہنا ہے کہ حجاج کرام کو وزارت اطلاعات کی اجازت کے بغیر پمفلٹ اور بک لیٹس وغیرہ تیار اور تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ سیاسی مقاصد کے تحت اجتماع منعقد کرنے سے بھی گریز کریں۔