غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























انہوں نے مزید بتایا کہ فطرہ واجب ہے اور شریعت میں اس کی ادائیگی کی خاص تاکید ہے، فطرہ کی رقم شوال کا چاند نظر آنے سے عیدالفطر کی نماز سے پہلے تک نکالا جا سکتا ہے اور یہ رقم فقراء مساکین کو دی جائے تو بہتر ہے، جبکہ اپنے عزیز و اقارب کو بھی دی جا سکتی ہے،
واضح رہے کہ حال ہی میں ڈنمارک میں انتہاء پسند گروہ کے ارکان نے کوپن ہیگن میں ترکی کے سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک اور ترکی کے پرچم کو نذر آتش کیا۔ یہ انتہاء پسند گروہ Patriots Live کے نام سے بدنام ہے۔ اس مذموم حرکت کے بعد مذکورہ گروہ نے اپنے فیس بک اکاونٹ سے اس نفرت انگیز کارروائی کی ویڈیو جاری کر دی۔
انہوں نے کہا کہ حور کا جو تصور ہے وہ دنیاوی خواتین کا نعم البدل نہیں ہے ۔علماء کے مطابق حور العین مذکر و موئنث دونوں ہوسکتےہیں ۔قیامت کے متعلق ایسا لگتا ہے کہ خدا نے مردوں کو زیادہ مخاطب کیا ہے ،مگر ایسانہیں ہے ۔اجتماعی امور میں چونکہ مردوں کا حصہ زیادہ ہے ،اس لئے مذکر کا صیغہ زیادہ استعمال ہواہے ۔خواتین کو کمتر سمجھنا غلط ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملیکة العرب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کی عفت و پاکدامنی میں بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سےانھیں "طاھرہ"کے لقب سے نوازا تھااس کے علاوہ"سیدہ قریش"کا لقب بھی آپ کو دیاگیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ س اپنے زمانےکے لوگوں میں بلند اور باعظمت مقام پر فائز تھیں۔
دعوت افطار میں نماز مغربین مولانا جواد نوری کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ روزہ انسان کو بھوک افلاس کی قدر جاننے والا بناتا ہے، ہمیں چاہیئے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ ہم حقوق العباد کا بھی بھرپور خیال رکھیں، اہل ثروت مسلمان اپنے غریب بھائیوں کو اپنی مسرت اور شادمانی میں شریک کریں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اسرائیل کو ایک غاصب اور ناجائز ریاست قرار دیا تھا۔ قائداعظم کے پاکستان میں غاصب اسرائیل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
وفاق ٹائمز، کوئٹہ بروری کی مسجد و مدرسہ خاتم النبین کے تعاون سے رمضان المبارک میں ولادت امام حسن مجتبی علیہ السلام اور عالمی […]
انہوں نے کہا کہ عوام کو مفت آٹے کی فراہمی میں خوار کیا جا رہا ہے آئے روز بزرگ خواتین و مرد اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، جسے منظم اور مربوط انداز سے بھی چلایا جا سکتا تھا، اگر حکومت اس مہم میں مزید دلچسپی اور توجہ کا مظاہرہ کرتی تو عوام تک آٹے کی فراہمی کو عزتمندانہ طریقے سے ممکن بنایا جا سکتا تھا۔