صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ امام خمینی نے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو جمعۃ الوداع قرار دیا تاکہ یہ مسئلہ زندہ رہے اور کوئی طاقت اسے دفن نہ کر سکے۔اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اتحاد و وحدت کی دعوت دی۔بارہ ربیع الاول سے سترہ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت منانے کا اعلان کیا تاکہ مسلمان اتحاد وحد ت قائم ہے۔
انقلاب اسلامی ایک بنیادی مقصد ہمیشہ مظلوم اور محکوموں کی مدد کرنا ہے۔فلسطین کے مظلوم انسان امریکی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ سے مظالم کا شکار ہیں۔اہل فلسطین کی مقاومت کا سفر جاری ہے اور انشاء اللہ ایک دن کامیابی ان کے قدم چومے گی۔امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ اسرائیل سرطان کی مانند ہے جتنا جلدی ہو اس سرطان کو ختم ہو جانا چاہیے۔
آئمہ اہل بیتؑ بالاخص امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام نے جس علمی درسگاه کی بنیاد رکھی اس کی ممتاز خصوصیت منبع وحی کے ساتھ متصل ہوناتھا در حقیقت اسی علمی مرکز نے رسالتمآب ﷺ کا پیغام رسالت پہنچانے میں اور حقیقی اسلام کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش ایک قرارداد پر کہا کہ مسلمانوں کے ان گھمبیر حالات کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی مدنظر رہے کہ کے پی اسمبلی میں فرقہ وارانہ قانون سازی بارے قرارداد پیش کرکے ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ بڑھکانے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔ ”پس اے بصیرت رکھنے والو! عبرت حاصل کرو ۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی رابطہ سیکرٹری ڈاکٹر علامہ سید محمد نجفی نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی 32 ویں برسی کی تقریب سے جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعة المنتظر لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی انقلاب کے باقی رہنے کا انحصار تین عناصر، قیادت کا کردار، پروگرام اور نظام پر ہوتا ہے۔ امام خمینی میں یہ تینوں اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے
بانی انقلاب اسلامی، مدافع قبلہ اول آیت اللہ العظمی امام خمینی کی 32 ویں برسی کے موقع پر ایم ڈبلیو ایم ضلع اسلام آباد کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ امام خمینی ایک عظیم اور بابصیرت قائد تھے جنہوں نے یہود و نصاری کی اسلام دشمن سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے شیعہ سنی وحدت کی ضرورت پر زور دیا ۔یہی وہ تفکر ہے جس کے خلاف طاغوت و استکبار ڈالرو دینار لٹانے میں اب تک مصروف ہیں۔
خرداد کا مہینہ اس غم انگیز سانحے کی یاد تازہ کرتا ہے جس میں امت مسلمہ اپنے رہبر و پیشوا سے محروم ہوگئی۔ حضرت امام خمینی ؒ عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کی خواب غفلت سے بیداری کا باعث بنے۔ اس بیداری کا نمایاں ترین نتیجہ ایران کی سرزمین پر اسلامی انقلاب کی کامیابی اور بابرکت اسلامی نظام کے قیام کی صورت میں سامنے آیا اور یہی بیداری عالمی استکبار خصوصا عالمی مجرم امریکہ کی سربراہی میں قائم کردہ استبدادی نظام کے شکنجے میں جکڑی ہوئی مظلوم اقوام عالم کے لئے امید اور آزادی کی کرن ثابت ہوئی۔
وہ لوگ خوش نصیب ہیں، جن کا انتخاب اللہ نے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کیا ہے اور رہبر انقلاب اسلامی امام خمینی انہی میں سے ایک تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور یورپ کو ایران سے خوف ہے تو وہ ایران کے ایٹم بم کی وجہ سے نہیں ہے، پوری ذمہ داری سے بات کر رہا ہوں، ایران سے اگر پرابلم ہے تو ایران کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ”اے سلمانؑ! تمہاری قوم، اگر علوم ستاروں پر ہوں گے تو وہاں سے توڑ کر لے آئیں گے۔“ آج ایرانی قوم ٹیکنالوجی میں خواہ وہ میڈیکل ٹیکنالوجی ہو، نینو ٹیکنالوجی ہو یا دیگر، اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ لوگ حیران ہیں کہ اتنی پابندیوں کے باوجود یہ لوگ کیسے ترقی کر رہے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ ایرانی ہیں، بلکہ اس لئے کہ اہل بیت علیہم السلام کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جو قوم اہل بیت علیہم السلام کے نقش قدم پر چلے گی، اللہ تعالیٰ اسے عزت و مقام دے گا۔