غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہمیں اپنی طاقت و ہمت کے مطابق اقدام کرنا چاہئے، اجتماعی شادی کی تقریب احسن اقدام ہے کیونکہ سادہ اور پر وقار تقریبات ہمارے معاشرہ کی رواجی مشکلات کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
اس تقریب کے دوران آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے قرآن کریم کی آیت«هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آیہ شریفہ ؛ بیوی اور شوہرکے اصلاحی کردار کو بیان کر رہی ہے یعنی بیوی اور شوہر کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے عیوب اور خطاؤں کی پردہ پوشی کریں۔
حوزہ ٹائمز|اس کار خیر میں محترمہ عظمی نقوی نے بہترین کاوش کی اور اپنی خصوصی خدمات انجام دیں اور جہیز کا تمام سامان خرید کر مستحقین کے گھر تک پہنچایا اور شایان شان طریقے سے بچی کو نیک دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
حوزہ ٹائمز|دارالحکومت صنعا کے سبعین اسکوائر پر منعقد ہونے والی اس عظیم الشان تقریب کے دوران یمن کے ۳۳۰۰ نوجوانوں کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا گیا۔ ان افراد میں جارح سعودی دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں دفاع وطن کے دوران معذور ہوجانے والے اور اسی طرح شہدا کے فرزند بڑی تعداد میں شامل تھے۔
حوزہ ٹایمز | اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی شر محض پیدا نہیں کیا خوبیاں تلاش کریں ملیں گیں دینداری پر اور اخلاق پر اگر شادیاں ہوں تو نسلیں سنور جائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں