صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























جدید اردو ادب کی تاریخ کراچی سے تعلق رکھنے والے سید ریحان عباس رضوی المعروف ریحان اعظمی ڈاکٹر ریحان اعظمی کے ذکرکے بغیر نامکمل رہے گی، وہ ایک استاد، صحافی اور قلمکار ہونے کے ساتھ ایک ایسے شاعر تھے کہ جنہوں نے اپنی شاعری کو فقط اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ذکر فضائل و مصائب کے لئے وقف کردیا تھا۔
شاعر اہلبیت ؑ ڈاکٹر ریحان اعظمی کی نماز جنازہ مولانا اسد علی شاکری کی اقتداء میں ادا کردی گئی۔ ہزاروں چاہنے والوں نے شرکت کی۔
عالمی یوم یمن کے موقع پر یمن کے پندرہ صوبوں میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں جن میں لاکھوں یمنی شہریوں نے شرکت کر کے امریکہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مظالم اور جارحیتوں کی مذمت کی۔ یمنی مظاہرین نے اعلان کیا کہ انکے ملک پر مسلط کردہ جنگ در حقیقت امریکی و صیہونی جارحیت ہے۔
علامہ ڈاکٹر محمد نقوی نے کہا کہ معروف ادیب شاعر اور مداح اھلبیتؑ ڈاکٹر ریحان اعظمی کی وفات شھید سبط جعفر زیدی رح کی شھادت کے بعد دوسری بڑی شخصیت کا چلا جانا ہے جس سے شاعری کا ایک اور باب بند ہو گیا ہے ڈاکٹر ریحان اعظمی مرحوم کے قلم نے 50 ہزار سے زائد مظلومیت اھلبیتؑ سے سرشار نوحہ لکھے 10 ہزار سے زائدہ فضائل سے سرشار قصائد لکھے.
سندھ اسمبلی کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق تحریک انصاف کے رکن اسمبلی حلیم عادل شیخ ایوان میں نئے قائد حزب اختلاف ہوں گے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں عالمی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے التواء پر بحث ہوئی۔ شیریں مزاری نے سوال اٹھایا کہ پاکستان عالمی سطح پر مقدمات کیوں ہار رہا ہے؟۔ فواد چوہدری نے بھی کہا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی پاکستان عالمی سطح پر ایک بھی کیس نہیں جیتا۔
مکہ المکرمہ: خانہ کعبہ کی چھت کی صفائی ریکارڈ 40 منٹ کے اندرمکمل کرلی گئی۔
امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان پر مشتمل امپیچمینٹ مینیجرز نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف فرد جرم باضابطہ طور پر سینیٹ کے حوالے کر دی جس میں لوگوں کو بغاوت پر اکسانے جیسے سنگیں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مرثیہ گو شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی 26 جنوری کی غمناک صبح کو دنیا سرائے سے کُوچ کر گئے ۔وہ مرثیہ نگاری سے پہلے شوبز سے وابستہ تھے پھرانہوں نے غزل اور گیت کو چھوڑ کر خود کو صرف مرثیہ نگاری تک محدود کرلیا تھا۔ جیسے لکھنو کے معروف مرثیہ گو شاعر میر انیس نے غزل کو ترک کرکے صرف مرثیہ گوئی میں اپنا لوہا منوایا تھا ۔