صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مذکورہ آیاتِ قرآنی کو شیعہ سنی احادیث کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ صحاحِ ستہ کی کتب میں امام مہدی آخر الزمان عجل اللہ فرج کے حوالہ سے چند مشترک باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ کہ ان کا نام "مہدی" ہے، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کی نسل سے ہیں، ان کا نمبر بارہواں ہے، وہ علی و فاطمہ علیہم السلام کے فرزند ہیں، رسول کریمؐ کے جانشین بنی اسرائیل کے خلفاء کی طرح بارہ ہوں گے وغیرہ۔
شب تاسوعا یا نویں محرم کی شب، حسینیۂ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ میں سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا منعقد ہوئي جس میں رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شرکت کی۔
انہوں نے اہل بیتؑ کی محور و مرکزیت اور ان کی حیثیت کے بیان کرنے کو بعثت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلِ منبر کو چاہیے کہ اہل بیتؑ کے مقام و مرتبہ کو بار بار بیان کریں۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں انہوں نے کہا عزاداری ہمارا آئینی اور شہری حق ہے، جسے استعمال کریں گے اور صدیوں سے کرتے آرہے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ شرپسندوں کو لگام ڈالیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالے نے سورہ الصفت آیت ۷۰۱ اور ۸۰۱ میں جس ذبح عظیم کا تذکرہ فرمایا ہے اس کے مصداق کے حوالے سے آئمہ اہل بیت ؑ اور فقہاء و علماء نے تشریح و تفاسیر کی ہیں۔ خصال صدوق ‘ بحارالانوار اور عیون اخبار الرضا کی روایات اس امر کی شہادت دے رہی ہیں کہ حضرت امام حسین ؑ ہی اس ذبح عظیم کے مصداق ہیں
حرم مطہر رضوی کے اردو زبان خطیب حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر فاضل علی فاضل صاحب نے ’’معرفت امام ‘‘ کے موضوع پر خطاب فرمایا، مجلس کے اختتام پر ماتم داری بھی ہوئی اورزائرین کو حرم امام علی رضا علیہ السلام کے متبرک دسترخوان پر غذا تناول کرنے کے لئے دعوت نامہ بھی دیا گیا۔
حجت الاسلام و المسلمین مسعود عالی نے مجلس پڑھی اور اپنے خطاب میں اس نکتے کو بیان کیا کہ دینداری کا اصلی معیار اور پیمانہ یہ ہے کہ انسان محاذ حق کا حصہ بنے اور امام کی منزلت و ذمہ داری کی معرفت رکھتا ہوں۔
ماتمی انجمنیں، ہمارے مسلمان معاشرے میں حسینی روشنی کی ایک جھلک ہمارے عوام کے لیے ماتمی انجمنوں کا موضوع ایک عام اور روزمرہ کا معاملہ ہے اور لوگوں کے دل اور ان کی آنکھیں ان سے مانوس ہیں لیکن اگر کوئي زیادہ باریکی اور حقیقت بیں نظروں سے دیکھے تو یہ ہمارے مسلمان معاشرے میں حسینی ضوفشانی کا ایک مظہر اور اس عظیم الہی تحریک کی مسلسل جاری برکتوں اور ثمرات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بس ہمیں اسلام کی منطق کو سمجھنے کی ضرورت ہے اسلامی تعلیمات حفظان صحت کی مانند ایک حقیقت اور ضرورت ہیں ایک انسان دوسرے انسان کی جانب مسئول اور ذمہ دار ہے، اسلام فردی اور شخصی آزادی اور احترام کا قائل ہے اس نے ہر فردِ واحد کے لئے آزادی اور احترام کا اصول وضع کیا ہے