صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























امام جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے ماہ محرم الحرام میں بڑے امام باڑے میں منعقد کی گئی مجلسوں کو لیکر انتظامیہ کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر اور عدالت میں داخل چارج شیٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بڑا امام باڑہ مذہبی مقام ہے ،یہاں ہمیشہ کی طرح مجلس منعقد ہوتی رہیں گی ۔اگر مجلسوں پر پابندی لگائی گئی تو ہم اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے اور کسی بھی طرح کے انجام کی پرواہ نہیں کریں گے.
نام کے تو ہم بھی زندہ ہیں لیکن شاعر مشرق علامہ اقبال نے زندگی کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے محمدعلی سدپارہ جیسے لوگ ہی حقیقی معنوں میں زندہ ہوتے ہیں۔ ظاہری شکل و صورت میں وہ بھی ہماری طرح کے انسان ہی تھے مگر جس چیز نے اسے علی سدپارہ بنادیا وہ ان کا پختہ ارادہ ، عزم و ہمت، پہاڑوں کی طرح بلند حوصلہ اور اپنے مقصد پر محکم یقین وغیرہ تھا۔
عراقی میڈیا کے مطابق حضرت آیت اللہ محمد اسحاق فیاض بیمار ہیں اور عراق کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں.
پاسپورٹ حکام نے مختلف کیٹیگریز کے پاسپورٹ کی فیس میں 5 فیصد کمی کر دی۔ فیس میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جس کا فوری اطلاق ہو گیا ہے۔ ملک بھر سمیت بیرون ملک پاسپورٹ دفاتر میں بھی فیس میں کمی کا اطلاق ہو گا۔
جامع مسجد سکردو میں نماز جمعہ کے خطبہ میں انجمن امامیہ کے صدر علامہ سید باقر الحسینی نے کہا کہ عزاداروں اور علماء کے خلاف کاٹی جانے والی ایف آئی آر کے خلاف شیعہ علماء کونسل اور دیگر تنظیموں کی جانب سے تحفظ عزا لانگ مارچ کی کامیابی پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اسلامی تحریک اور ایم ڈبلیو ایم کے علماء کو سلام پیش کرتے ہیں اسی طرح اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں تو یقیناً شیعہ ہمیشہ کامیاب رہیں گے۔
نماز جمعہ کے خطبہ میں آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا کہ اللہ کا کثرت سے ذکر درحقیقت قوت و طاقت کی علامت ہے۔جو شخص خدا کی طرف متوجہ رہتا ہے وہ گناہ، معصیت اور غلطیاں نہیں کرتاکیونکہ اسے علم ہے کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے خدا سے عرض کی کہ ہم تو تیرے سامنے ہیں اور ہماری ہر بات ہر حالت تیرے سامنے ہے۔ان دعاؤں کے جواب میں اللہ نے فرمایا یقینا آپ نے جو کچھ مانگایعنی آپ کی خواہشیں،دعائیں قبول کر لی گئیں۔
بلتستان کے معروف عالم دین، استاد حوزہ حجۃ الاسلام سید احمد رضوی نے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس خبر کو قومی ہیرو کے پرستاروں کے لیے صدمہ قرار دیا ہے۔
سرپرست مدرسہ علمیہ حضرت امام العصر عج فاؤنڈیشن حیدرآباد سندھ حجۃ الاسلام کرم علی حیدری المشہدی نے کہا کہ محمد علی سدپارہ جس نے نہ صرف ملک عزیز پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا بلکہ اس نے ہر مقام پہ اہلبیت علیہم السلام سے بلاخص سید الشہداء محسنِ انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اپنی خصوصی محبت اور عقیدت کا اپنے ملک عزیز پاکستان اور دیارہائے غیر میں اظہار کیا تھا۔
انکا مزید کہنا تھا ایسے قومی ہیروز صدیوں بعد جنم لیتے ہیں انکی اھلبیتؑ سے خصوصا محافظ شریعت حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی مثال آپ تھی انہوں نے امام کے فرمان پہ عمل کیا وطن سے محبت کا عملی نمونہ پیش کیا۔