1

بیسویں رمضان کی دعا اور اس کی تشریح

  • News cod : 16584
  • 03 می 2021 - 0:02
بیسویں رمضان کی دعا اور اس کی تشریح
اے معبود! اس مہینے میں بہشت کے دروازے مجھ پر کھول دے اور دوزخ کی بھڑکتی آگ کے دروازے مجھ پر بند کردے، اور مجھے اس مہینے میں تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرما اے مؤمنوں کے دلوں میں سکون نازل کرنے والے.

تحریر: حجت الاسلام سید احمد رضوی

أللّهُمَّ افْتَحْ لي فيہ أبوابَ الجِنان وَأغلِقْ عَنَّي فيہ أبوابَ النِّيرانِ وَوَفِّقْني فيہ لِتِلاوَة القُرانِ يامُنْزِلَ السَّكينَة في قُلُوبِ المؤمنين

اے معبود! اس مہینے میں بہشت کے دروازے مجھ پر کھول دے اور دوزخ کی بھڑکتی آگ کے دروازے مجھ پر بند کردے، اور مجھے اس مہینے میں تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرما اے مؤمنوں کے دلوں میں سکون نازل کرنے والے

روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم کی قیمت معین کر رکھی ہے۔ اس گراں بہا قیمت کو بہشت، فردوس اور جنت کہا جاتا ہے۔

معصوم کا ارشاد ہے:

ثمنکم الجنه فلا تبیعوها الا بها

اگر کسی نے خود کو جنت سے کم قیمت پر بیچ دیا تو وہ خسارے میں رہے گا اور جنت کے مقابلے میں وہ جہنم یا دوزخ کی نذر ہوجائے گا۔

اس لیے لازم ہے کہ پہلے جنت اور دوزخ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کی جائیں اور جنت تک پہنچنے کے ذرائع اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بھی واقفیت حاصل کی جائے۔

بہشت کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت کی وسعت دکھانے کے لئے دوزخ کے سات دروازوں کے مقابلے میں بہشت کے آٹھ دروازے رکھے ہیں۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ

إِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ ثَلَاثَةٌ

روایات کہتی ہیں کہ بہشت کے دروازں پر کچھ نعرے یا جملے درج ہیں جن کا ہماری زندگی کو بدلنے میں بہت بڑا کردار ہے۔ مثلا: ایک عبارت یوں ہے کہ :

اَلصَّدَقَةُ بِعَشْرَةٍ، وَالْقَرْضُ بِثَمانِيَةَ عَشْرٍ،

صدقے کا ثواب دس گنا ، جبکہ قرض کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔

بہشت بہت ہی وسیع و عریض مقام کا نام ہے جس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا جس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں،مُفَتَّحَةً لَّهُمُ الأبْوَابُ جو مخصوص لوگوں کے ساتھ مختص بھی ہوتے ہیں۔ مثلا: ایک دروازہ اسلام کے سپاہیوں کے نام سے مختص ہے جسے باب المجاھدین کہتے ہیں۔ ایک دروازے کا نام “ریان” ہے جو روزہ داروں کے ساتھ مختص ہے۔

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ

جنت میں جانے کے اسباب و علل ُ

1 ۔ توحید

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں

قَوْلُ ;لاَ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ ; ثَمَنُ اَلْجَنَّةِ .

لا الہ الا اللہ بہشت کی قیمت ہے۔

2۔ ولایت

حضرت امام رضاعلیہ السلام فرماتے ہیں:

اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا

3۔ عمل صالح

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:

ثَمَنُ الْجَنّةِ الْعَمَلُ الصالِحُ

4۔ خوف خدا اور نفس سے مقابلہ

وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ

فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَى

5۔ زہداور دنیا سے بے رغبتی

ثَمنُ الجَنّةِ الزُّهدُ في الدُّنيا

6۔ امتحان الہی میں کامیابی

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ

7۔ دنیا میں سختی جھیلنا

امام علی علیہ السلام :

الإمام عليٌ عليه السلام :بِالمَكارِهِ تُنالُ الجَنَّةُ

8۔ تقوائے الٰہی اختیار کرنا

امام علی علیہ السلام :

الجنّه دار الأتقیا

9 خداوند عالم کی پیروی

امام علی علیہ السلام :

الجَنّةُ جَزاءُ المُطيعِ

10۔ صبرو بردباری اپنانا

امام رضا علیہ السلام :

وَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الشَّدَائِدِ- فَقَدِ اسْتَهَزَأَ بِنَفْسِهِ

11۔ پیغمبر اکرم ﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند ہونا۔

شفاعتي لأهل الكبائر من أمّتي

جہنم کی کچھ خصوصیات :

1۔ جہنم انتہائی ہولناک جگہ ہے جس کی مہیب آوازیں دور دور تک سنائی دے رہی ہوگی۔

سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا …

2۔ مساحت کے لحاظ سے وسیع ہونے کے باوجود وہاں جانے والے تنگی اور گھٹن محسوس کریں گے

3۔ جہنم کے خاص پہرے دار ہوں گے۔

علیہا تسعہ عشر

4۔ وہ انتہائی بدمزاج پہرے دار ہوں گے۔

عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ

5۔ جہنم کافروں کو ہر طرف سے گھیر لے گا۔

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحيطَةٌ بِالكافِرينَ

6۔ جہنمی فریاد کررہے ہوں گے۔

لهم فیها زفیرو شهیق.

7۔ جہنم میں آگ کی فراوانی ہوگی۔

وَهِيَ تَفُورُ

8۔ اس کی آگ کبھی ٹھنڈی نہیں ہوگی۔

لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ۔۔۔۔۔۔كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا

اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے اور جہنم سے جہنم سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے، آمین !

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=16584