0

اکیسویں رمضان کی دعا اور اس کی تشریح

  • News cod : 16623
  • 04 می 2021 - 1:03
اکیسویں رمضان کی دعا اور اس کی تشریح

تحریر : حجت الاسلام سید احمد رضوی اَللهُمَّ اجْعَلْ لِي فِيہ إِلَی مَرْضَاتِكَ دَلِيلا وَلاتَجْعَلْ لِلشَّيطَانِ فِيہ عَلَی سَبِيلا وَاجْعَلِ الْجَنَّةَ لِي مَنْزِلا وَمَقِيلا […]

تحریر : حجت الاسلام سید احمد رضوی

اَللهُمَّ اجْعَلْ لِي فِيہ إِلَی مَرْضَاتِكَ دَلِيلا وَلاتَجْعَلْ لِلشَّيطَانِ فِيہ عَلَی سَبِيلا وَاجْعَلِ الْجَنَّةَ لِي مَنْزِلا وَمَقِيلا يا قَاضِي حَوَائِجِ الطَّالِبِينَ

اے معبود! اس مہینے میں میرے لئے تیری خوشنودی کی جانب راہنما نشان قرار دے، اور شیطان کے لئے مجھ پر دسترس پانے کا راستہ قرار نہ دے، اور جنت کو میری منزل اور جائے آرام قرار دے، اے طلبگاروں کی حاجات بر لانے والے

انسان وہ اشرف المخلوقات ہے جس کی تخلیق پر اللہ تعالیٰ نے خود کو سراہا ہے : فتبارک اللہ احسن الخالقین

اس عظیم مخلوق کو اپنے معبود  سے دور کرنے کے لئے اس کے دو دشمن ہیں جو ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں:

1۔ انسان کا اندرونی دشمن، جسے نفس کہا جاتا  ہے اور اس کے ساتھ مقابلہ کرنے  کو روایات میں جہاد اکبر کہا گیا ہے ۔

2۔ انسان کا بیرونی دشمن، جسے قرآن مجید کی اصطلاح میں ابلیس اورشیطان کہتے ہیں ۔

شیطان کو جب اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ سے دھتکارا گیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے ایک  معین مدت کے لئے کچھ اختیارت اور مہارتیں حاصل کیں تاکہ انسان کو اس کے  ہدف اور مقصد سے ہٹائے۔

لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ

شیطان  کس طرح انسان پر قابو پاتا ہے؟

اس سلسلے میں قرآن مجید نے  مختلف چیزوں کا تذکرہ کیا  ہے :

1۔  برے کاموں کو اچھی شکل میں پیش کرکے،

2۔ گمراہ کرکے،

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ

3۔ طولانی آرزؤں کے ذریعے،

لَأُمَنِّيَنَّهُمْ

4۔ اغوا  کرکے،

5۔ جھوٹے دعوؤں کے ذریعے،

يَعِدُكُمُ الفَقرَ….

6۔ برے کاموں کی ترغیب کے ذریعے۔

روایات کی روشنی میں شیطان اکیلا نہیں ،بلکہ اس کے کارندے ہوتے ہیں۔

شیطان کی اپنی فوج ہوتی ہے ۔

إنہ یراکم ھو وقبیلہ من حیث لا ترونھم

اس کے لشکر میں جنات بھی ہیں اور  انسان بھی ۔

شَياطِينَ الْإِنْسِ وَ الْجِنِّ

اس فوج میں اس کی اپنی اولاداور خاندانی لوگ بھی ہیں اور غیر بھی۔

كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ ۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ

انسانی  ارادے اور شیطانی وسوسے میں  رابطہ

شیطان انسانوں کا کھلا دشمن ہے اور ہمیشہ انسان کو اپنے راستے سے منحرف کرنے پر تلا ہوا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اسک کے آگے مسخر اور مجبور ہو،  بلکہ انسان اپنے ارادے اور ایمانی قوت  کے ذریعے شیطان کے عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے، کیونکہ انسان صاحب اختیار ہے اور وہ ہر کام اپنے ارادے کے ذریعے انجام دیتا ہے۔

إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبِيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً

وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ

شیطان کچھ لوگوں پر تسلط نہیں پا سکتا:

1۔  مخلصین

انہ عبادک منھم المخلصین

2۔ مومنین

إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا

3۔متوکلین ( توکل  کرنے والے)

وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

شیطان کہتا ہے کہ پانچ قسم کے لوگ  جو میرے ہاتھ نہیں لگتے:

1 ۔ پاک نیت کے ساتھ خدا کی  پناہ لینے والے،

2۔ دن رات خدا کی تسبیح کرنے والے،

3۔ دوسرے مومن بھائی کو خود پر ترجیح دینے والے ،

4۔ مصیبت میں جزع فزع سے اجتناب کرنے والے،

5۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر راضی رہنے والے۔

قیامت میں شیطان اور اس کے پیروکاروں کی حالت:

محشر میں جب انسان مختلف گناہوں کی وجہ سے پھنس جاتا ہے تو وہ  مختلف بہانے تراشنے لگتا ہے جن میں سے ایک بہانہ شیطان کے بہکانے کا ہے۔ اس وقت شیطان اپنے پیروکاروں سے گفتگو کرتا ہے جسے  قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔  اس وقت شیطان کے پیروکاروں کی حالت قابل دید ہوگی۔

وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ : جب بروز قیامت جابروں اور ان کے پیروکاروں کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا تو اس وقت شیطان اپنے پیروکاروں سے کہے گا: اللہ نے تمہیں جنت اور نعمتوں کا وعدہ دیا تھا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پورا کر دیا اور انہیں جنت کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا اور میں نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ قیامت کو حساب کتاب نہیں ہو گا اور بتوں سے سعادتیں مل جاتی ہیں۔ ان وعدوں کی میں نے خلاف ورزی کی۔ میرا تم پر کوئی زور نہیں چلتا تھا۔ یعنی تم پر میری بالادستی قائم نہ تھی کہ میری اطاعت کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ نہ طاقت کی بالا دستی تھی نہ دلیل و برہان کی، میں نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر گمراہی کی طرف نہیں دھکیلا۔ میں نے صرف حق کی دعوت کے مقابلے میں باطل کی دعوت تمہارے سامنے رکھ دی۔ اسے مان لینے یا رد کرنے کے اختیارات تمہارے پاس تھے۔ لہٰذا اب اس انجام کی ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ہیں شیطان کے طعنے، جو اس کے پیروکار اس وقت سنیں گے جب وقت ہاتھ سے نکل گیا ہو گا اور فیصلہ الٰہی ہو چکا ہو گا۔ ان کے پاس ان طعنوں کا کوئی جواب نہ ہو گا۔

لہذا ہمیں ہر کام کے انجام سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے تاکہ شیطان سے محفوظ رہیں یہاں تک کہ کچھ کاموں میں خدا وند عالم نے خود حکم دیا ہے کہ تم اس کام سے پہلے شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔

مثلا:

1:وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ

2: وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ

3:فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ

ہم شیطان مردود اور اس کے ہھتکنڈوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ رب العزت ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے جن پر شیطان ہرگز مسلط نہیں ہو سکتا۔ آمین یا رب العالمین

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=16623