0

حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی مدظلہ العالی کا مختصر تعارف

  • News cod : 19470
  • 11 جولای 2021 - 18:46
حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی مدظلہ العالی کا مختصر تعارف
آپ استاد العلماء علامہ سید محمد یار شاہ صاحب قدس سرہ اور محسن ملت علامہ سید صدر حسین نجفی صاحب اعلی اللہ مقامہ کے خاندانی اور علمی و روحانی وارث ہیں۔ استاذ العلماء حضرت علامہ سید محمد یار شاہ صاحب آپ کے چچا ، استاد اور مربی تھے۔

حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی مدظلہ العالی کے مختصر تعارف (قسط 1)
وفاق ٹائمز، آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی صاحب پاکستان کے مرکزی شیعہ دینی درسگاہ حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کے پرنسپل ہونے کے علاوہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر اور وفاق علماء شیعہ پاکستان کے سرپرست ہیں۔ آپ استاد العلماء علامہ سید محمد یار شاہ صاحب قدس سرہ اور محسن ملت علامہ سید صدر حسین نجفی صاحب اعلی اللہ مقامہ کے خاندانی اور علمی و روحانی وارث ہیں۔
استاذ العلماء حضرت علامہ سید محمد یار شاہ صاحب آپ کے چچا ، استاد اور مربی تھے۔ آپ نے سات، آٹھ سال کی عمر میں (1949ء) میں استاذ العلماء کی آغوش عاطفت میں اپنی دینی تعلیم کا آغاز حفظ قرآن حکیم سے کیا۔ پھر دیگر رائج الوقت دروس کی تعلیم بھی 1956 تک انہی سے حاصل کی۔ آپ 1957 ء میں جامعۃ المنتظر میں داخل ہوگئے۔
آپ چونکہ سات، آٹھ سال استاذ العماء سے تقریبا سارے مروجہ دروس اچھی طرح پڑھ کر لاہور آئے تھے، لہٰذا اگلے ہی سال 1958 ءمیں علامہ صفدر حسین نجفی نے آپ کو فقہ و اصول کی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ تدریس کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ 1958 ء سے لے کر 1963ء تک صرف، نحو، معانی و بیان اور منطق و فلسفہ کی سب کتابوں کی تدریس آپ نے فرمائی ۔ سولہ ، سترہ سال سے لے کر بیس اکیس سال کی عمر میں آپ نے درسی نصاب کی تمام ابتدائی کتب سے لے کر متوسط و نہائی کتب بشمول مختصر المعانی، مطول، سلم العلوم اور قاضی حمد اللہ تک کی با ضابطہ تدریس فرمائی۔ آپ کے اسی زمانہ تدریس کے دوران کئی با صلاحیت استفادہ کنندگان، اندرون و بیرون ملک اعلی ترین علمی مراتب و مدارج پر فائز ہوئے۔
بائیس سال کی عمر میں رسائل، مکاسب، کفایہ اور منظومہ، بڑی حد تک شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس صاحب سے پڑھ کر آپ نجف اشرف منتقل ہوگئے۔
آپ نے نجف اشرف میں اپنے زمانے کے اعیان اور مفاخر و مشاہیر سے استفادہ کیا۔ اگرچہ آپ نے آیت اللہ العظمی سید محسن الحکیم ، آیت اللہ العظمی امام خمینی اور آیت اللہ العظمی شیخ جواد تبریزی و چند دیگر بڑے اساتذہ سے بھی کسب فیض کیا۔ مگر آپ نے زیادہ اور بھر پور استفادہ آیت اللہ العظمی سید ابوالقاسم خوئی صاحب سے کیا۔آپ نے انکے درس خارج کی تقریرات عربی میں لکھیں جن کی حال ہی میں مرحوم و مغفور علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی صاحب کی سرپرستی میں قم میں دو جلدوں میں اشاعت ہوئی۔
1969 ءمیں آپ پاکستان تشریف لے آئے اور محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی کی وفات تک آپ جامعہ کے مہتمم اعلی رہے اورا نکی وفات سے تا حال جامعہ کے پرنسپل ہیں۔ تقریبا بیس سال سے زائد عرصہ سے فقہ و اصول کا درس خارج دے رہے ہیں۔
اگرچہ آپکی مبارک زندگی کا زیادہ وقت درس و تدریس میں گزارا ہے لیکن تقریرات درس خارج کے علاوہ بھی دس بارہ کتابیں آپ کے علمی کارناموں میں شامل ہیں۔ آپ کی کتابیں زیادہ تر قرآنی موضوعات پر ہیں۔
آپ کی مذہبی، ملی اور ملکی معلومات حیرت انگیز حد تک وسیع ہیں اس پیرانہ سالی میں بھی آپ کا حافظہ بہت قوی ہے۔ آپ کی گفتگو ہمیشہ اعداد و شمار سے مرصع اور ذاتی تجرربات و مشاہدات کا مرقع ہوتی ہے۔
ملک کے گوشہ گوشہ میں تبلیغی اور تنظیمی سفر کرنے کے علاوہ آپ نے مشرق وسطی و یورپ کے اکثر ممالک اور امریکا و کینیڈا کے بارہا بہت تفصیلی اور مطالعاتی دورے کئے ہیں۔
وقت، ورزش اور اپنے معمولات کے اندر نظم و ضبط جیسی پابندی آپ نے زندگی بھرکی، اسکی مثال ہمارے مقامی علماء کرام میں کم ملتی ہے۔ (جاری ہے)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=19470