اس بات میں توکسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ اس ملک کے شہری کی حیثیت سے عزاداری نہ صرف ہماراقانونی حق ہے بلکہ دینی حوالےسے ایک مکمل شرعی فریضہ ہےجس سے کوتاہی کسی طور بھی برتی نہیں جاسکتی ۔
یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں رکاوٹوں ،فتووں اور بم دھماکوں کے باوجود یہ سلسلہ نہیں رک سکااور نہ ان شاء اللہ آئندہ کوئی روک سکےگابلکہ ہر فتوے اور دھماکے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ اہتمام وانصرام اور شان وشوکت کے ساتھ جلوس اور مجالس عزامنعقد ہوتی رہی ہیں اور ان شاء اللہ اسی تزک واحتشام سے منعقد ہوتی رہیں گی لیکن ایک اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایام عزامیں تسلسل کے ساتھ مجالس اورجلوس کے انعقاد سے ہماری ساری ملی اور شرعی ذمہ داریاں پوری ہوگئیں اور ہم اس حوالے سے مکمل طور پہ بری الذمہ ہوگئے؟
اس کاجواب یقینانفی میں ہے کیونکہ یہ مجالس اور جلوس ہائےعزا درحقیقت سید الشہداحضرت امام حسین علیہ السلام کے مشن کے پرچار اور دنیاکواسلام ناب محمدی سے تعارف کرانےاور حقیقی اسلام کی تبلیغ کے لئےتمہیدی حیثیت رکھتے ہیں ان کی اہمیت اور حیثت اپنی جگہ مسلم ہے جس پہ دورائے ہونہیں سکتی مگر اصل ھدف توخودامام عالی مقام علیہ السلام کے مطابق دین سے آشنائی اور اس کے تقاضوں کے مطابق لوگوں کی اصلاح کرنا ہے ۔
جیساکہ آپ اپنے بھائی جناب محمدبن حنفیہ کے نام اپنے خط میں تحریر فرماتے ہیں :
۔۔۔۔اِنّی لَمْ اَخْرُجْ اَشَرًا وَلاٰ بَطَراً وَلاٰ مُفْسِدًا وَلاٰ ظٰالِماً وَ اِنَّمٰا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلاٰحِ فی اُمَّةِ جَدّی اُریدُ اَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ ۔۔۔۔
میں خود خواہی یا سیر و تفریح کے لئے مدینہ سے نہیں نکل رہا اور نہ ہی میرے سفر کا مقصد فساد اور ظلم ہے بلکہ میرے اس قیام کا مقصد اپنے نانا کی امت کی اصلاح ہے ۔میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرناچاہتاہوں۔
(بحار الانوار ج 44 ص 239)
اصل عزاداری کے تحفظ کے لئے شیعیان حیدر کرار علیہ السلام نے طول تاریخ میں جو قربانیاں دیں اور جوجتن کئے وہ اسلامی تاریخ کے ماتھے کاجھومرہیں اس حوالے سے شاید ہی ہم نے کبھی کسی کوتاہی کاارتکاب کیا ہو یہ انہی قربانیوں اور جدوجہد کاثمر ہے کہ آج دنیاکاکوئی گوشہ ایسانہیں جہاں محرم کا چاندطلوع ہو اورکربلاکے بن میں پیاسے ذبح ہونے والے نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب وانصار کی یاد نہ منائی جاتی ہو ۔عزاداری کایہ فروغ اور پھیلاواسی جدوجہد اور قربانیوں کی دین ہےجس سے ہرگز انکار نہیں کیاجاسکتا۔
مگر ہم اصل ھدف یعنی دین سے آشنائی اور اس کے تقاضوں کے مطابق لوگوں کی کماحقہ یااپنی بساط بھر اصلاح کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں یہ وہ اہم ترین سوال ہے جو ہرباشعور آدمی کے ذہن میں آتاہے چاہے وہ عقیدت یاجھجھک کے مارے اسے اپنی زبان پہ نہ لاتاہومگر شعوری اور لاشعوری طور پر وہ اپنے اردگرد اس سوال کاجواب ڈھونڈنے کی کوشش ضرور کرتاہےکیونکہ اسی سے عزاداری کا بنیادی تقدس وابستہ ہے۔
جب عزاداری کااصل مقصد لوگوں اصلاح اور امر بالمعروف اور نہی ازمنکر کافروغ ہے تواس سے لامحالہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لوگوں کی اصلاح وہی کرسکتاہے جوخود اصلاح شدہ ہوورنہ جوشخص خود اصلاح کامحتاج ہووہ کیونکر کسی کی اصلاح کرسکتاہےاسی طرح امر بالمعروف اور نہی از منکر کافریضہ وہی سرانجام دے سکتاہے جو پہلے مرحلے میں اسلام میں طے شدہ معروفات اور منکرات سے پوری طرح باخبر ہواور دوسرے مرحلے میں خود معروفات پہ مکمل عمل پیرااور منکرات سے پوری طرح اجتناب برتتاہو اور ساتھ ہی اسلامی اخلاق اور تبلیغ کے دینی اور سماجی تقاضوں سے مکمل آشنائی رکھتاہو ورنہ جسے دین کاالف با بھی معلوم نہ ہواور وہ دین کوسمجھنے اور اسلامی اخلاق سے متصف ہونے سے پہلے ہی صرف ساز وآواز اور اندازوتعلقات کی بنیاد پہ مبلغ اور علامہ دھر بن کے دین پہنچانےپہ لگ جائے تودین بتانے کی بجائے دین بنانے کاکام شروع کرے گاجس سے عقائد کے ساتھ ہمارامکتبی اور سماجی ڈھانچہ بھی نہ صرف ہل کررہ جائے گابلکہ وہ ایسی مجلسی اورتبلیغی سرگرمیوں کاتاب ہی نہ لاسکے گاجس کامشاہدہ ہم آئے روز کرتے رہتے ہیں ۔
یوں یہ کہے بنارہانہیں جاتا کہ ہم من حیث القوم “تحفظ عزاداری” میں مکمل کامیاب ہونے کے باوجود “تقدس عزاداری “کوبحال رکھنے میں پوری طرح کامیاب نظر نہیں آتے کیونکہ ہم اپنی ساری توانائیاں تحفظ عزاداری میں ہی صرف کرتے آئے ہیں اس لئےہم تقدس عزاداری کی طرف کم ہی متوجہ ہوئے جس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ تحفظ عزاداری کو لاحق خطرات بیرونی ہیں اس لئے ہم اس محاذ پہ زیادہ چوکنارہے جبکہ تقدس عزاداری کولاحق خطرات اندرونی ہیں اس لئے ہم نے انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی اور یہیں ہم سے بہت بڑی بھول ہوئی اور جہاں کہیں تقدس عزاداری کی پامالی اور بدعتوں کی ترویج پہ دبے لفظوں میں بھی کوئی ہلکا پھلکا احتجاج ہوا وہاں ہم نے اس کوسنجیدہ لینے کی بجائے متوجہ کرانے والوں کوہی دشمن عزا ٹھہرانے میں دیر نہ لگائی جس سے اصلاح کرنے والوں کی بدترین حوصلہ شکنی ہوئی اور عزاداری اور منبر کے تقدس سے کھیلنے والوں کومزید شہ ملی اور انہوں نےمجلس و منبر کوتبلیغ واصلاح کی بجائے شرک وغلو ، سب وشتم اور ذاتی مخاصمت چکانے کا اکھاڑہ بنالیا
جس سے عزاداری کے تقدس پہ توحرف آیاہی اس کے ساتھ سنجیدہ اور پڑھالکھاطبقہ بالخصوص نوجوان حضرات منبروالوں سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھنے لگے اور وہ مجلس سے باھر بیٹھ کر یہ انتظارکرنے لگے کہ کب یہ مولوی یاذاکر منبر سے اترے اور نوحہ خوانی شروع ہوتوہم مجلس میں شریک ہوں۔۔ان لوگوں کو عزاداری کے اہم ترین رکن سے دور کرنے میں جہاں بےعمل اور بدتمیز ذاکرین کابڑاہاتھ ہے وہاں بڑے بڑے ٹائٹل والےبداخلاق اوردینی معلومات اور عصری تقاضوں سےیکسر عاری مولویوں کاکردار بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
علم وعمل اور اچھااخلاق مبلغ کی ایسی لازمی خصوصیات ہیں جن کے بغیر دین کی تبلیغ وترویج کاتصور ہی نہیں کیاجاسکتا اور جہاں یہ تینوں چیزیں کسی کے اندر بقدرضرورت جمع ہوجائیں وہاں اس کی زبان میں تاثیر ہوتی ہے اور اللہ تعالی لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتاہے جیساکہ ارشاد اقدس الہی ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا
بیشک جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ، اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، خدائے رحمن لوگوں کے دِلوں میں ان کے لئےمحبت پیدا کر دے گا (سورہ مریم آیت 96)
جہاں یہ خصوصیات عنقاہوں گی وہاں مصنوعی محبت اور شہرت کے لئے تجملاتی القابات ،جعلی خطابات اور سفارشی کلمات سے کام لیناپڑتاہے مگر کام پھر بھی بن کے نہیں دیتا۔
دین کی تبلیغ وترویج کااصل کام علمائے اعلام اور دین سے وابستہ لوگوں کاہےاگر وہ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں اور ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی لومت لائم کی پرواکئے بغیر حق گوئی سے کام لیں اور حق پہ ڈٹ جائیں توکوئی وجہ نہیں کہ معاشرے میں اسلامی تعلیمات عملی قالب میں ڈھلتے نظر آئیں اور برائیوں کی بیخ کنی ہو ۔
چنانچہ امام حسین علیہ السلام اپنے مشہور خطبہ منی میں علمائے اسلام سے مخاطب ہوکرانہیں ان کی ذمہ داریاں یاددلاتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :
ثمَّ اَنْتمْ أیَّتھا الْعصٰابَة عصٰابَةٌ بالْعلْم مَشْھوْرَةٌ وَ بالْخَیْر مَذْکوْرَةٌ وَ بالنَّصیْحَة مَعْروْفَةٌ وَ باللَّہ فی اَنْفس النّٰاس مَھٰابَةٌ یَھٰابکم الشَّریف وَ یکْرمکم الضَّعیف وَ یؤْثرکمْ مَنْ لاٰ فَضْلَ لَکمْ عَلَیْہ وَ لاٰ یَدَ لَکمْ عنْدَہ تشَفّعوْنَ فی الْحَوٰائج اذٰا امْتنعَتْ منْ طلاّٰبھٰا وَ تَمْشوْنَ فی الطَّریْق بھَیْبَة الْملوْک وَ کَرٰامَة اْلاَ کٰابر ،
پھر اے وہ گروہ ! جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے، جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، وعظ و نصیحت کے سلسلے میں تمہاری شہرت ہے اور الله والے ہونے کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر تمہاری ہیبت و جلال ہے ،یہاں تک کہ طاقتور تم سے خائف ہے اور ضعیف و ناتواں تمہارا احترام کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ شخص بھی خود پر تمہیں ترجیح دیتا ہے جس کے مقابلے میں تمہیں کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی تم اس پر قدرت رکھتے ہو ۔جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں تو اس وقت تمہاری ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے تمہیں وہ عزت و احترام حاصل ہے کہ گلی کوچوں میں تمہارا گزر بادشاہوں کے سے جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔
اَلَیْسَ کلَّ ذٰلکَ انَّمٰا نلْتموہ بمٰا یرْجٰی عنْدَکمْ منَ الْقیٰام بحَقّ اللّٰہ وَ انْ کنْتمْ عَنْ اَکْثَر حَقّہ تقَصّروْنَ فَاسْتَخْفَفْتمْ بحَقّ اْلاَئمَّة فَاَمّٰا حَقَّ الضّعَفٰاء فَضَیَّعْتمْ وَ اَمّٰا حَقَّکمْ بزَعْمکمْ فَطَلَبْتمْ فَلاٰ مٰالاً بَذَلْتموْہ وَ لاٰ نَفْساً خٰاطَرْتمْ بھٰا للَّذی خَلَقَھٰا وَ لاٰ عَشیْرَةً عٰادَیْتموْھٰا فی ذٰات اللّٰہ
یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے کہ تم سے توقع کی جاتی ہے کہ تم الہٰی احکام کا اجراء کروگے ،اگرچہ اس سلسلے میں آ
تمہاری کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں۔ تم نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے، معاشرے کے کمزور اوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے اور جس چیز کو اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہو، نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا۔
اَنْتمْ تَتَمَنَّوْنَ عَلیَ اللّٰہَ جَنَّتَہ وَ مجٰاوَرَةَ رسلہ وَ اَمٰاناً مَنْ عَذٰابہ لَقَدْ خَشیْت عَلَیْکمْ اَیّھا الْمتَمَنّوْنَ عَلیَ اللّٰہ اَنْ تَحلَّ بکمْ نقْمَةٌ منْ نَقمٰاتہ لاَنَّکمْ بَلَغْتمْ منْ کَرٰامَة اللّٰہ مَنْزلَةً فضّلْتمْ بھٰا وَ مَنْ یعْرَف باللّٰہ لاٰ تکْرموْنَ وَ اَنْتمْ باللّٰہ فی عبٰادہ تکْرَموْن
اسکے باوجود تم جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہو، حالانکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں الله کا عذاب تم پر نازل نہ ہو،کیونکہ الله کی عزت و عظمت کے سائے میں تم اس بلند مقام پر پہنچے ہو، جبکہ تم خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں جبکہ تمہیں کو الله کے بندوں میں الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
وَ قَد تَرَوْنَ عھودَ اللّٰہ مَنْقوْضَةً فَلاٰ تَفْزَعوْنَ وَ اَنْتمْ لبَعْض ذمَم آبٰائکمْ تَفْزَعوْنَ وَ ذمَة رَسوْل اللّٰہ مَخْفوْرَةٌ مَحْقوْرَةٌ وَ الْعمْی وَ الْبکْم وَ الزَّمْنیٰ فی الْمَدائن مھْمَلَةٌ لاٰ ترْحَموْنَ وَ لاٰ فی مَنْزلَتکمْ تَعْمَلوْنَ وَ لاٰ مَنْ عَملَ فیھٰا تعیْنوْنَ وَ بالادّھٰان وَ الْمصٰانَعَة عنْدَ الظَّلَمَة تٰامَنوْنَ کلّ ذٰلکَ ممّٰا اَمَرَکم اللّٰہ بہ منَ النَّھْی وَ التَّنٰاھی وَ اَنْتمْ عَنْہ غٰافلوْن
تم دیکھتے رہتے ہو کہ الله سے کئے ہوئے عہدو پیمان کو توڑاجا رہا ہے، اسکے باوجود تم نہیں ڈرتے، اس کے برخلاف اپنے آباؤ اجداد کے بعض عہد و پیمان ٹوٹتے دیکھ کر تم کانپ اٹھتے ہو، جبکہ رسول الله کے عہد و پیمان نظر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی پروا نہیں کی جا رہی ۔ اندھے ، گونگے اور اپاہج شہروں میں لاوارث پڑے ہیں اور کوئی ان پررحم نہیں کرتا۔ تم لوگ نہ تو خود اپنا کردار ادا کر رہے ہو اور نہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہو۔ تم لوگوں نے خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے اپنے آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچایا ہوا ہے جبکہ خدا نے اس سے منع کیا ہے اور ایک دوسرے کو بھی اس سے روکنےکے لئے کہا ہے جبکہ تم لوگ ان تمام احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔
(بحوالہ تحف العقول ، کتاب سلیم ابن قیس ،بحار الانوار)
ذرااندازہ کیجئے کہ امام عالی مقام علیہ السلام معاشرے میں اپنی دینی اور سماجی ذمہ داریوں کے نبھانے میں تساہل سے کام لینے اور عالمانہ پروٹوکول سے مکمل لطف اندوز ہونے والے علماء اور خطباء کے ضمیروں کوکس طرح جھنجھوڑ رہے ہیں اس خطبے کوپڑھ کریوں محسوس ہوتاہے کہ گویاآپ آج ہی کے حالات کے تناظر میں یہ ارشاد فرمارہے ہوں۔یہی ایک امام معصوم کے فرمان کی شان ہے کہ اس کے پیش نظرصرف کسی خاص زمانے کے لوگوں کی اصلاح نہیں ہوتی بلکہ اس کاارشاد ہرزمانے میں رشدوہدایت کاجامع برنامہ ہوتاہے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم منبر حسینی صرف ایسے باعمل علماء اور باکردار خطباء کے ہی حوالے کریں جو لوگوں کی بجائےخداکی مرضی کومدنظر رکھتے ہوں اور جن کاعمل ان کے قول کی تصدیق کرےتاکہ تحفظ عزاداری کے ساتھ تقدس عزاداری بھی قائم رہے۔
علیم رحمانی
31جولائی 2021












