غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























مضان المبارک نے ہمیں اجتماعیت کا ماحول دیا تھا ، نماز جماعت ادا ہوتی تھی، افطاری کرتے تھے اورنماز جمعہ کو بھی برقرار رکھا گیا تھا۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں بالخصوص صوبہ پنجاب میں تسلسل کے ساتھ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت سرکاری اہلکاران کے ذریعہ غیر آئینی اور غیرقانونی اقدامات پر جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عزاداری امام حسین ؑ محرم الحرام صفر المظفرجیسے عظیم عمل کو سرکار کی جانب سے جرائم میں شامل کر کے مجرمانہ فعل قرار دے دیا گیاجو ایف آئی آرز کے متن سے صاف ظاہر ہے۔
اس بات میں توکسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ اس ملک کے شہری کی حیثیت سے عزاداری نہ صرف ہماراقانونی حق ہے بلکہ دینی حوالےسے ایک مکمل شرعی فریضہ ہےجس سے کوتاہی کسی طور بھی برتی نہیں جاسکتی ۔
حکمرانوں نے خصوصی طور پر سی ٹی ڈی پنجاب کو ٹاسک دیا کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر مجالس و جلوس ہائے عزا کے کے انعقاد پر ایف آئی آرز کے بھرپور اندراج پر کام کرے۔ لہٰذا پولیس کے ایف آئی آرز کے اندراج کے بعد سی ٹی ڈی نے خوف و ہراس پھیلانے اور گرفتاریوں کے حوالے سے بے جاوناجائز اقدامات کیے۔
حوزہ ٹائمز|ڈاکٹر راشد عباس نقوی نے مکتبِ شہید سلیمانی کی تشریح کرتے ہوئے اُس کو مکتب ِامام خمینی کا تسلسل قرار دیا، جو کہ درحقیقت الہیٰ و توحیدی مکتب ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ تین شخصیات گزری ہیں، جو اپنی آئیڈیالوجی کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی سرحدوں سے ماوراء تھیں، جن میں جمال الدین افغانی اسد آبادی، شہید ڈاکٹر مصطفیٰ چمران اور شہید قاسم سلیمانی شامل ہیں۔