0

دعائے کمیل کا موضوعاتی مطالعہ

  • News cod : 25537
  • 18 نوامبر 2021 - 16:50
دعائے کمیل کا موضوعاتی مطالعہ
پاک ہے وہ ذات کہ جس نے انسان کو تمام مخلوقات پر فوقیت دی اور انسان کو اپنی بندگی کیلئے خلق فرمایا۔درود و سلام ہو محمدؐ و آل محمدؐ پر کہ جن کو اللہ نے ہر قسم کے رجس و ناپاکی سے دور کیا۔ہم اس بات پر اللہ کے بہت شکر گزار ہیں کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالی نے محمدؐ و آل محمدؐ کی محبت رکھی اور اس راستے پر چلنے کی توفیق دی کہ جس پر چلنے والوں کیلئے اللہ کی طرف سے نعمتیں ہیں۔ اللہ تعالی سے ارتباط کا ایک بہترین ذریعہ دعا ہے،اور اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں انسان کو اس بات کی طرف خصوصی طور پر متوجہ کیا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ ہر حالت میں دعا کے ذریعے سے اپنے رب سے متمسک رہے.

ثاقب علی (متعلم جامعۃ الکوثر)

مقدمہ:
پاک ہے وہ ذات کہ جس نے انسان کو تمام مخلوقات پر فوقیت دی اور انسان کو اپنی بندگی کیلئے خلق فرمایا۔درود و سلام ہو محمدؐ و آل محمدؐ پر کہ جن کو اللہ نے ہر قسم کے رجس و ناپاکی سے دور کیا۔ہم اس بات پر اللہ کے بہت شکر گزار ہیں کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالی نے محمدؐ و آل محمدؐ کی محبت رکھی اور اس راستے پر چلنے کی توفیق دی کہ جس پر چلنے والوں کیلئے اللہ کی طرف سے نعمتیں ہیں۔ اللہ تعالی سے ارتباط کا ایک بہترین ذریعہ دعا ہے،اور اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں انسان کو اس بات کی طرف خصوصی طور پر متوجہ کیا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ ہر حالت میں دعا کے ذریعے سے اپنے رب سے متمسک رہے۔اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں:اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْءَ(سورة النمل /آیت ٦٣) (آیا وہ( پروردگار بہتر نہیں ہے)کہ جو بھی اسکو پکارے تو اسکے دعا کا جواب دیتا ہے یعنی اسکے دعا کو قبول کرتا ہے اور اس سے تکلیف کو دور کرتا ہے۔)۔ بعض روایات میں تو دعا کو مومن کا اسلحہ کہا گیا ہے لھذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کیلئے دعا کی کیا اہمیت ہے۔
اسمیں کوئی شک نہیں کہ معصومینؑ علم کے خزانے ہیں روایات،خطبات،زیارات اور دعاوں کے ذریعے سے علومِ اہل بیتؑ ہم تک پہنچے ہیں۔معصومینؑ سے منقول دعائیں معرفتِ خدا سے پُر ہیں۔اگر کوئی انسان اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اہل بیتؑ کے دعاوں کی طرف رجوع کرے۔لیکن تعجب کی بات ہے کہ ہم دعا کو صرف ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں اور ان میں موجود عظیم مطالب پر غور و فکر نہیں کرتے۔اہل بیتؑ سے نقل دعائیں تو بہت زیادہ ہیں لیکن ہم یہاں اس مختصر سے تحقیق میں صرف دعائے کمیل سے متعلق موضوعاتی بحث کریں گے۔دعائے کمیل امام علیؑ سے منقول دعاوں میں سے ایک عظیم دعا ہے۔دعائے کمیل خدا کی معرفت سے پُر وہ عظیم دعا ہے کہ جس میں توحید سے لیکر قیامت تک تمام اصولِ دین کا تفصیلی بیان ایک خاص انداز یعنی دعا و مناجات کی صورت میں موجود ہے کہ جس توجہ سے پڑھے تو انسان کے لئے معنویات کے راستے کھل جاتے ہیں ۔ اس مختصر سے تحقیق میں بہت اختصار کے ساتھ دعائے کمیل میں موجود چند کلی موضوعات پر طالب علمانہ قلم فرسائی کی ہے۔اللہ تعالی ہمیں علوم اہل بیتؑ سیکھنے سمجھنے اور ان پر عمل کرنے
کی توفیق دے۔
دعائے کمیل کا تعارف
دعائے کمیل حضرت امام علیؑ سے منقول دعاوں میں سے ایک عظیم دعا ہے کہ جو فصاحت و بلاغت اور اپنے عظیم مطالب کی وجہ سے شیعہ و اہل سنت دونوں کے ہاں منقول دعاوں میں گلِ سرسبد کی حیثیت رکھتی ہے۔دعائے کمیل کا ماخذ شیخ طوسی کی کتاب مصباح المتہجد ہے۔ شیخ طوسی نے اس دعا کو، دعائے خضر کے عنوان سے ماہ شعبان کے اعمال کے ضمن میں نقل کیا ہے۔ شیخ طوسی فرماتے ہیں;مروی ہے کہ کمیل بن زیاد نخعی نے امیرالمؤمنینؑ کو دیکھا جو نیمہ شعبان کی رات کو یہ دعا پڑھ رہے تھے؛ بعدازاں وہ اس مشہور دعا کو نقل کرتے ہیں۔;( مصباح المتہجد /ص ٨٧٠) سید ابن طاؤس نے دعائے کمیل کو اقبال الاعمال میں،علامہ مجلسی نے زاد المعاد میں
اور کفعمی نے بلدالامین اور مصباح میں نیمہ شعبان کے اعمال کے ضمن میں نقل کیا ہے۔شیخ عباس قمی نے بھی مفاتیح الجنان میں دعائے کمیل کو مصباح المتہجد سے نقل کیا ہے اور علامۂ مجلسی نے دعائے کمیل کو بہترین دعا قرار دیا ہے۔اگر چہ بعض علماء اس دعا کے سند کو ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن اسکے متن کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ کلامِ خدا تو نہیں ہے لیکن بشر بھی ایسے کلام سے عاجز ہے۔لھذا اسکے متن میں موجود عظیم مطالب اور فصاحت و بلاغت انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ یہ حضرت امام علیؑ جیسے عظیم شخصیت کا ہی کلام ہوسکتا ہے۔
معصومینؑ کا اسلوبِ دعا
معصومینؑ سے ہم تک جو علم پہنچا ہے اس کا ایک بڑا ذخیرہ معصومینؑ سے منقول دعاوں کی صورت میں پہنچا ہے۔معصومینؑ کا اللہ تعالی کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔اگر معصومینؑ نہ ہوتے تو آج اللہ تعالی کی پہچان انسان کیلئے ناممکن ہوتا،اگر توحید کچھ سمجھ میں آتا ہے تو معصومینؑ کے پرنور کلام سے ہی سمجھ میں آتا ہے۔دعا یعنی کسی سے درخواست کرنا کچھ مانگنا،لیکن تعجب کی بات ہے کہ معصومینؑ نے اپنی دعاوں میں خدا کی حمد و ثنا زیادہ کی ہے اور مانگا کم ہے،اور جو کچھ بھی مانگا ہے وہی مانگا ہے جس میں خدا کی رضا ہو اپنی ذات کیلئے کچھ بھی نہیں مانگا ہے۔ معصومینؑ کی دعاوں کا پہلا حصہ خدا کی حمد و ثنا،توحید کی وضاحت و معرفتِ خدا پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرا حصہ بندے کی حقیقت اور بندے کی خدا کی طرف احتیاج پر مشتمل ہوتا ہے۔جس میں معصومینؑ نے اللہ تعالی سے راز و نیاز آہ و زاری کی ہے اور جب انسان اس حصے کو غور سے پڑھتا ہے تو جسم پر ایک عجیب و غریب کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔معصومینؑ نے عملا یہ سیکھایا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ اپنے گناہ کا اللہ تعالی کے بارگاہ میں اقرار کرے،خدا سے مغفرت طلب کرے اور جو کچھ بھی مانگنا ہے خدا سے مانگے کسی اور کے در کو نہ کھٹکھٹائے۔

دعائے کمیل میں توحید کی تجلیاں
دعائے کمیل کا ایک بہت بڑا حصہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا پر مشتمل ہے کہ جس میں ذاتِ خدا کی ربوبیت،خالقیت،عبودیت،علم،قدرت، ستاریت اور اسی طرح اللہ تعالی کے دسیوں صفات کی وضاحت ہے۔دعائے کمیل میں آغاز سے لیکر آخر تک توحید کی تجلیاں نظر آتی ہیں۔ دعائے کمیل کا وہ حصہ جس میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا امیر المومنین سے منقول ہے اگر ہم یہاں صرف اسی حصے کے سارے عناوین کو ذکر کرنا چاہیں تو ہم اس مختصر سی تحقیق میں ان سب کو جمع کرنے سے بھی قاصر ہیں۔امیر المومنینؑ نے توحید کی عملی صورت انسان کے سامنے رکھی ہے کہ جس سے انسان کسی بھی صورت میں انکار نہیں کرسکتا۔امیر المومنینؑ نے نہ صرف ایک جامع انداز میں صفاتِ خدا کا ذکر کیا ہے بلکہ صفاتِ خدا کی وسعت کو بھی ساتھ بیان فرمایا ہے کہ جیسے اللہ تعالی کی ذات لامحدود ہے جیسے اللہ تعالی کی ذات کی کوئی حد بندی نہیں ہے اور ایک محدود ظرفِ انسان اللہ تعالی کے عظیم ذات کو کماحقہ درک نہیں کرسکتا اسی طرح اس دعا میں امیرالمومنینؑ نے صفاتِ خدا کی وسعت کو بہت ہی عالی شان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایاہے۔امام علیؑ اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے ان بے مثال الفاظ کے ساتھ اس دعا کا آغا کرتے ہیں۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ وَ بِقُوَّتِكَ الَّتِي قَهَرْتَ بِهَا كُلَّ شَيْ ءٍ وَ خَضَعَ لَهَا كُلُّ شَيءٍ وَ ذَلَّ لَهَا كُلُّ شَيْ ءٍ وَ بِجَبَرُوتِكَ الَّتِي غَلَبْتَ بِهَا كُلَّ شَيءٍ وَ بِعِزَّتِكَ الَّتِي لاَ يَقُومُ لَهَا شَيْ ءٌ وَ بِعَظَمَتِكَ الَّتِي مَلَأَتْ كُلَّ شَيءٍ وَ بِسُلْطَانِكَ الَّذِي عَلاَ كُلَّ شَيءٍ وَ بِوَجْهِكَ الْبَاقِي بَعْدَ فَنَاءِ كُلِّ شَيءٍ وَ بِأَسْمَائِكَ الَّتِي مَلَأَتْ (غَلَبَتْ) أَرْكَانَ كُلِّ شَيءٍ وَ بِعِلْمِكَ الَّذِي أَحَاطَ بِكُلِّ شَيءٍ وَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَضَاءَ لَهُ كُلُّ شَيءٍ يَا نُورُ يَا قُدُّوسُ يَا أَوَّلَ الْأَوَّلِينَ وَ
يَا آخِرَ الْآخِرِينَ۔

(دعائے کمیل)
(اے اللہ!میں تجھ سے التجا کرتا ہوں تجھے تیری اس رحمت کا واسطہ جو ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، تیری اس قوت کا واسطہ جس سے تجھے ہر چیز پر قاہری حاصل ہے جس کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے اور جس کے آگے ہر چیز حقیر و محکوم ہے۔تیری اس حاکمانہ عظمت کا واسطہ جس سے تو ہر شے پر غالب ہے، تیری اس عزت کا واسطہ جس کے مقابل کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی،تیری اس عظمت کا واسطہ جس کے جلوؤں سے ہر چیز بھری ہے، تیری اس سلطنت کا واسطہ جسے ہرچیز پر بالادستی حاصل ہے، تیرے اس جلوہ ذات کا واسطہ جو ہر شے کے فنا کے بعد بھی باقی رہے گا،تیرے ان اسمائے حُسنٰی کا واسطہ جو ہر شئے کے جزو جزو میں کارفرما ہیں، تیرے اُس علم کا واسطہ جو ہر چیز پر محیط ہے، تیرے جلوہ ذات کے اُس نور کا واسطہ جس سے ہر چیز روشن ہے،اے نورِ حقیقی ! اے پاک و پاکیزہ!

اےسب پہلوں سے پہلے، اے سب آخروں سے آخر۔)
حاکمیتِ اعلیٰ کو امیر المومنینؑ نے اس دعا میں ان بے مثال الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا
ہے۔;اللَّهُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُكَ وَ عَلاَ مَكَانُكَ وَ خَفِيَ مَكْرُكَ وَ ظَهَرَ أَمْرُكَ وَ غَلَبَ قَهْرُكَ وَ جَرَتْ قُدْرَتُكَ
وَ لاَ يُمْكِنُ الْفِرَارُ مِنْ حُكُومَتِكَ(دعائے کمیل) (اےمیرے خدا: تیری سلطنت عظیم، تیرا رتبہ بہت ارفع و اعلیٰ، تیری تدبیرمخفی، تیرا
حکم ظاہر، تیرا قہر غالب، تیری قدرت جاری و ساری اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ہے۔) امام علیؑ اللہ تعالی کی ستاریت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اللَّهُمَّ مَوْلاَيَ كَمْ مِنْ قَبِيحٍ سَتَرْتَهُ وَ كَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ الْبَلاَءِ أَقَلْتَهُ وَ كَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَيْتَهُ وَ كَمْ مِنْ مَكْرُوهٍ دَفَعْتَهُ وَ كَمْ مِنْ ثَنَاءٍ جَمِيلٍ لَسْتُ أَهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ (خدایا:تو نے میری کتنی ہی برائیوں کی پردہ پوشی کی،تو نے مجھ پر سے کتنی ہی سخت بلاؤں کو ٹال دیا،تو نے مجھے کتنی ہی لغزشوں کی رسوائی سے بچا لیا،تو نے
مجھ سے بے شمار ناگوار آفات کو دور کیا اور کتنی ہی ایسی خوبیاں جن کا میں اہل بھی نہ تھا ، لوگوں میں مشہور کر دیں۔)
حقیقتِ انسان از نظرِ دعائے کمیل
دعائے کمیل کا مطالعہ کرتے کرتے انسان اس سوال کی طرف ضرور متوجہ ہوتا ہے کہ آخر امام علیؑ تو اللہ تعالی کے معصوم بندوں میں سے ہے،امام علیؑ تو مولا المتقین،فخر العابدین،کلِ ایمان و امیر المومنینؑ ہے آخر کیا وجہ ہے کہ امام علیؑ اس دعا میں اللہ تعالی کے سامنے نہ صرف اپنے کو ایک گناہ گار انسان قرار دیتا ہے بلکہ ایک ایک گناہ کا اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں اور اپنے پروردگار سے انتہائی عاجزی و آہ و بکا کے ساتھ طلبِ مغفرت کرتے نظر آرہے ہیں؟ جب ہم دعائے کمیل کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں کہ تو معلوم ہوجاتا ہے کہ حقیقت میں امام علیؑ یہاں ان جملات میں انسان کو اپنی حقیقت کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں۔در حقیقت ان جملات کے ساتھ امام علیؑ انسان کی حقیقت کو انسان کے سامنے رکھ رہے ہیں کہ اے انسان! خدا کے سامنے تیری کوئی حیثیت نہیں ہے،اللہ تعالی نے تجھے ہر قسم کے نعمت سے نوازا لیکن تو دنیا و نفس کے فریب میں آگیا،تو کتنا جلد باز ہے،اور اپنے مہربان رب سے دوری اختیار کرنے والا ہے کہ جس نے تجھے پیدا کیا،تیری ہدایت کا انتظام کیا،ہر مشکل میں تجھے نظر انداز نہیں کیا، لیکن اےانسان! تو اپنے پروردگار کی طرف کیوں نہیں آتا جب آسائش پاتے ہو تو تکبر کرنے لگتے ہو،اپنے رب کی معصیت کرنے لگتے ہو،اپنے رب کو چھوڑدیتے ہو لیکن جب مشکلات میں گرفتار ہوتے ہو اور کوئی جائے پناہ نہیں پاتے تب اپنے رب کی طرف آتے ہو،آخر تو کتنا جاھل و نادان ہے۔تو ایک کمزور مخلوق ہے اپنے ہر کام میں خدا کے قدرت و رحمت کا محتاج ہے لھذا کسی بھی صورت میں ہٹ دھرمی کا شکار نہ ہو۔
امام علیؑ ان حکیمانہ جملات کے ساتھ حقیقتِ انسان کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اللَّهُمَّ عَظُمَ بَلاَئِي وَ أَفْرَطَ بِي سُوءُ حَالِي وَ قَصُرَتْ (قَصَّرَتْ) بِي أَعْمَالِي وَ قَعَدَتْ بِي أَغْلاَلِي وَ حَبَسَنِي عَنْ نَفْعِي بُعْدُ أَمَلِي (آمَالِي) وَ خَدَعَتْنِي الدُّنْيَا بِغُرُورِهَا وَ نَفْسِي بِجِنَايَتِهَا (بِخِيَانَتِهَا) وَ مِطَالِي يَا سَيِّدِي فَأَسْأَلُكَ بِعِزَّتِكَ أَنْ لاَ يَحْجُبَ عَنْكَ دُعَائِي سُوءُ عَمَلِي وَ فِعَالِي وَ لاَ تَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَيْهِ مِنْ سِرِّي وَ لاَ تُعَاجِلْنِي بِالْعُقُوبَةِ عَلَى مَا عَمِلْتُهُ فِي خَلَوَاتِي مِنْ سُوءِ فِعْلِي وَ إِسَاءَتِي وَ دَوَامِ تَفْرِيطِي وَ جَهَالَتِي وَ كَثْرَةِ شَهَوَاتِي وَ غَفْلَتِي(خدایا:میری آزمائش بہت عظیم ہے،میری بدحالی حد سے بڑھ گئی ہے، برے اعمال نے مجھے عاجز کر دیا ہے،اپنے گناہوں کی وجہ سے میرے ہاتھ گردن سے بندھ ہوئے ہیں،میری امیدوں کی درازی نے مجھے نفع سے محروم کر رکھا ہے،دنیا نے اپنی جھوٹی چمک دمک سے مجھے دھوکہ دیا ہے اور میرے نفس نے اپنے گناہوں اور ٹال مٹول کے باعث فریب دیا ہے۔آئے میرے خدا:تجھے تیری عزت کا واسطہ،تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ میری بداعمالیاں اور غلط کاریاں میری دعا کے قبول ہونے میں رکاوٹ نہ بنیں، میرے جن بھیدوں سے تو واقف ہے تو ان کی وجہ سے مجھے رسوا نہ کرنا اور خلوتوں میں انجام دیئے گئے ان اعمال پر سزا دینے میں جلدی نہ کرنا جو میرے بُرے
افعال،گستاخی،میری دائمی کوتاہی،جہالت،میری کثرت خواہشِ نفس اور غفلت کے باعث ہیں۔) (إِلَهِي) فَاقْبَلْ عُذْرِي وَ ارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي وَ فُكَّنِي مِنْ شَدِّ وَثَاقِي يَا رَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي وَ
رِقَّةَ جِلْدِي وَ دِقَّةَ عَظْمِي يَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِي وَ ذِكْرِي وَ تَرْبِيَتِي وَ بِرِّي وَ تَغْذِيَتِي هَبْنِي لاِبْتِدَاءِ كَرَمِكَ وَ سَالِفِ بِرِّكَ; (خدایا:میری معافی کی درخواست قبول کرلے،اس تکلیف کی حالت میں مجھ پر رحم فرما اور میرے ہاتھ پاؤں کی اس سخت جکڑ سے مجھے رہائی بخش۔رحم فرما میرے جسم کی ناتوانی پر، میری جلد کی فرسودگی پر اور میری ہڈیوں کی ناطاقتی پر۔اے وہ ذات:جس نے میری خلقت اور قابل ذکر ہونے کی ابتداء کی،میری پرورش کا سامان کیا، میرے حق میں بہتری کی اور میرے لئے غذا کے اسباب فراہم کرنے کی ابتدا کی۔) بندے کا اپنے پرودگار پر محکم یقین اور اپنے پروردگار سے مضبوط تعلق امام علیؑ نے اس دعا میں ایک اور اہم درس جو ہمیں دیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا اپنے خالق و مالک پر محکم ایمان ہونا چاہئے وہ ایمان کہ جسکو کوئی بھی چیز نقصان نہ پہنچا سکے اس طرح انسان کا اپنے رب کے ساتھ مضبوط تعلق ہونا چاہئے۔انسان اپنے پروردگار کے ساتھ تب ہی مضبوط تعلق قائم رکھ سکتا ہے جب انسان اپنے رب کی معرفت رکھتا ہو اور اپنے خالق و مالک پر محکم ایمان رکھتا ہو۔امام علیؑ نے اس دعا میں انسان کو متوجہ کیا ہے کہ انسان کا مضبوط سہارا اگر ہے تو وہ اللہ تعالی کی ذات ہے۔اور انسان کو ہر قیمت پر اس ذات سے اپنا ناطہ جوڑ کے رکھنا چاہئے اور کبھی انسان اس چیز سے غافل نہ ہو۔جب انسان مشکلات میں گرفتار ہوتا ہے تو پھر دنیا انسان کو چھوڑ دیتی ہے اگر چہ انسان اس دنیا کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔امام علیؑ نے ان خوبصورت الفاظ کے ساتھ اللہ تعالی کے اوپر محکم یقین و مضبوط رابطے کو بیان فرماتے ہیں۔إِلَهِي وَ رَبِّي مَنْ لِي غَيْرُكَ أَسْأَلُهُ كَشْفَ ضُرِّي وَ النَّظَرَ فِي أَمْرِي (اے میرے خدا! میرے پروردگار! میرے لئیے تیرے سوا کون ہے جو میرے تکالیف کو دور کرے اور میرے معاملے کو دیکھے۔) بندہ اللہ تعالی کی رحمت سے کسی بھی صورت میں نامید نہ ہو جیسا کہ قرآن مجید اور معصومینؑ کے روایات میں یہ بہت زیادہ ملتا ہے کہ معصومینؑ نے بار بار تاکید کے ساتھ اس چیز کو بیان فرمائے ہیں کہ انسان کو اللہ تعالی کے رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔اللہ تعالی کے رحمت کا دائرہ بہت وسیع ہے حتی کہ بعض روایات میں یہاں تک آیا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے سے ایک ماں سے ستر گناہ زیادہ محبت رکھتا ہے۔اسی طرح دعائے کمیل میں بھی بہت ہی احسن انداز میں اس بات کا بیان موجود ہے اور بندے کو ناامیدی سے منع کیا گیا ہے،اور اس بات کی طرف انسانکی توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان جتنے بھی تکالیف و مشکلات میں گرا ہوا ہو حتی کہ اپنے گناہوں کی وجہ سے جھنم میں جانے کا احتمال ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اللہ تعالی
سے خیر کی امید رکھے۔

(يَا إِلَهِي) صَبَرْتُ عَلَى حَرِّ نَارِكَ فَكَيْفَ أَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِ إِلَى كَرَامَتِكَ أَمْ كَيْفَ أَسْكُنُ فِي النَّارِ
وَ رَجَائِي عَفْوُكَ فَبِعِزَّتِكَ يَا سَيِّدِي وَ مَوْلاَيَ أُقْسِمُ صَادِقاً لَئِنْ تَرَكْتَنِي نَاطِقاً لَأَضِجَّنَّ إِلَيْكَ بَيْنَ
أَهْلِهَا ضَجِيجَ الْآمِلِينَ (الْآلِمِينَ) وَ لَأَصْرُخَنَّ إِلَيْكَ صُرَاخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ وَ لَأَبْكِيَنَّ عَلَيْكَ بُكَاءَ
الْفَاقِدِينَ۔
(اے میرے مولا و میرے پروردگار! میں تیرے عذاب پر اگر صبر بھی کر لوں تو تیری رحمت سے جدائی پر کیسے صبر کر سکتا ہوں اور اسی طرح اگر میں تیری آتشِ جہنم کی تپش برداشت بھی کر لوں تو تیری نظرِ کرم سے اپنی محرومی کیسے برداشت کر سکوں گا جب کہ مجھے تجھ سے عفو و درگزر کی امید ہے۔پس تیری عزت کی قسم اے میرے آقا و مولا! میں سچی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہاں اگر تو نے میری گویائی سلامت رکھی تو میں اہلِ جہنم کے درمیان تجھے اسی طرح پکاروں گا جیسے کرم کے امیدوار پکارا کرتے ہیں۔ میں تیرے حضور میں اسی طرح آہ و بکا کروں گا جیسے فریادی آہ زاری کرتے ہیں اور تیری(رحمت کے فراق) میں اسی طرح روؤں گا جیسے بچھڑنے والے آنسو بہایا کرتے ہیں، میں تجھے وہاں (مسلسل) پکاروں گا کہ تو کہاں ہے۔) گناہوں کے اثرات دعائے کمیل کی تناظر میں دعائے کمیل میں ایک تو یہ کہ بہت زیادہ موضوعات کا بیان موجود ہے اور دوسری بات یہ کہ تمام کے تمام موضوعات کو وضاحت کے ساتھ اور کلی طور پر بیان کیا ہے،اور جب بھی میں دعائے کمیل کے اندر اس چیز کو دیکھتا ہوں تو مولا علیؑ کے فصاحت و بلاغت سے نہایت متاثر ہوجاتا ہوں۔چونکہ دعائے کمیل میں جتنے بھی موضوعات کو امام علیؑ نے دعا کی شکل میں بیان فرمایا ہے بالکل واضح و آشکار الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے اور دوسری چیز یہ کہ موضوعات سے جزوی بحث نہیں کی ہے بلکہ کلی بحث کی ہے لیکن چونکہ کلام بہت واضح ہے معمولی سے غور کرنے کے بعد شاید دعائے کمیل کا مطالعہ کرنے والا اس چیز کی طرف متوجہ ہوجائے کہ حقیقت میں دعائے کمیل وہ دعا ہے کہ جس میں علم کے کئی سمندروں کو امام علیؑ نے جمع کیا ہے۔پس گناہوں کے بارے میں بھی دعائے کمیل میں ایک کلی بحث ہوا ہے خصوصا گناہوں کے اثرات کے بارے میں کہ جس میں انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ہر گناہ کا اثر دوسرے گناہ سے مختلف ہوتا ہے اور لازم سی بات ہے کہ جب اثر مختلف ہوگا تو اس پر ملنے والا عذاب بھی دوسرے گناہوں سے مختلف ہوگا۔گناہوں کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے ایک اور اہم چیز کی طرف امام علیؑ نے انسان کی توجہ دلائی ہے اور وہ یہ کہ آخرت میں ان گناہوں کے بدلے عذاب اپنی جگہ لیکن ان گناہوں سے اگر خدا نے ہمیں منع کیا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر گناہ انسان کیلئے نقصاندہ اثر رکھتی ہے۔ لھذا انسان اس نظر سے گناہ کو نہ دیکھے کہ بعد میں اسکے اوپر عذاب ملنے والا ہے شاید خدا عذاب کسی بندے سے ٹال دے لیکن اگر بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو ان گناہوں کے تکوینی اثرات سے انسان نہیں بچ سکتا۔یعنی جو دین و نظامِ ہدایت اللہ تعالی نے بندے کیلئے بنایا ہے یہ اس کی زندگی کیلئے ہے تاکہ اپنی زندگی میں نقصانات سے بچے اور کمال حاصل کرے۔امام علیؑ ان عظیم جملات کے ساتھ بندے کو اپنی گناہوں کی طرف
متوجہ فرماتے ہیں;اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِكُ الْعِصَمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ
الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَيِّرُ النِّعَمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلاَءَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي كُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ وَ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَخْطَأْتُهَا(اے اللہ!میرے وہ تمام گناہ معاف کر دے جو برائیوں سے محفوظ رکھنے والی پناہ گاہوں
کو مسمار کر دیتے ہیں، اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو عذاب نازل ہونے کی وجہ بنتے ہیں،اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو نعمتوں کو بدل کر انھیں آفت بنادیتے ہیں،اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو دعائیں قبول نہیں ہونے دیتے،اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جن کی وجہ سے رحمت کی امید ختم ہو جاتی ہے، اے اللہ!میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو مصیبتیں نازل کراتے ہیں،اے اللہ!میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو میں نے جان بُوجھ کر کئے اور ان ساری خطاؤں سے در گزر کر جو میں نے بھولے سے کیں۔) حقیقتِ استغفار از نظر دعائے کمیل امام علیؑ نے کئی مقامات پر استغفار کی حقیقت بیان فرمائی ہے اور انسان کو متوجہ کیا ہے کہ استغفار صرف زبان سے ادا ہونے والے چند کلمات کا نام نہیں ہے بلکہ استغفارعھد و پیمان کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔یہ ایک عھد ہے جو بندہ اپنے خدا سےکرتا ہے۔دعائے کمیل میں امام علیؑ نے استغفار کی عملی صورت کو بندوں کے سامنے
اس انداز میں بیان کیا ہے کہ انسان یہ دعا پڑھنے سے ایک رقت و ندامت کی کیفیت کومحسوس کرتا ہے اور حقیقت میں اللہ تعالی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اس دعا کےپڑھنے کے بعد دل ہی دل میں اسے یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ خالقِ کائنات نے میری گناہیں معاف کر دی ہیں۔ نہج البلاغہ کے کلماتِ قصار میں ایک مقام پر استغفار کی حقیقت جو امامؑ نے بیان فرمائی ہے دعائے کمیل میں اسکو عملی جامہ پہنایا ہے تاکہانسان کو معلوم ہوجائے کہ بندہ اپنے رب سے کس طرح استغفار کرے۔نہج البلاغہ میںحقیقتِ استغفار امامؑ سے یوں منقول ہے کہ: ایک شخص نے امام علیؑ کے سامنے;استغفر اللہ کہا تو آپ نے فرمایا کہ تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے۔یہ استغفار بلند ترینلوگوں کا مقام ہے اور اس کے مفہوم میں چھ چیزیں ہیں: (1) گذشتہ گناہوں سے ندامت(2) آئندہ کے لئے گناہ نہ کرنے کا عزمِ محکم (3) مخلوقات کے حقوق کا ادا کردینا کہاس کے بعد یوں پاکدامن ہو جائے کہ کوئی مواخذہ نہ رہ جائے (4) جس فریضہ کو ضائع کردیا ہے اسے پورے طور پر اداکردینا۔(5) جو گوشت مال حرام سے بنا ہے اسے رنج و غم سے پگھلا دینا یہاں تک کہ کھال ہڈیوں سے چپک جائے اور نیا گوشت پیدا ہوجائے (6) جسم کو ویسے ہی اطاعت کا مزہ چکھائو جیسے معصیت سے لطف اندوز کیا ہے ۔اس کے بعد کہو ;استغفر اللہ ۔ (نہج البلاغہ /حکمت ۴١٧) رضایتِ خداوند تبارک و تعالی دعائے کمیل میں امام علیؑ نے بندے کو ایک اور اہم نکتے کی طرف متوجہ کیا ہے کہ ضروری ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے خالق کو خوش رکھے کبھی ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالی
بندے کے اوپر غضبناک ہوجائے اور بندہ عذابِ اللہی کا مستحق قرار پائے۔اور یہ نہ صرف یہ کہ اس بات کا بیان کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی ہےکہ اے انسان اسکے باوجود کہ تیرا رب بہت ہی عظیم مرتبے والاہے،بہت ہی بلند ہےلیکن اسکے باوجود وہ سریع الرضا ہے۔اگر تو اسکو پکارے تو وہ تیری دعا سننے والاہے وہ دنیا میں مرتبہ رکھنے والے ان افراد کی طرح نہیں ہے کہ جن کو تھوڑا سادنیاوی لحاظ سے مرتبہ ملے تو نہ کسی پر رحم کرتے ہیں اور نہ کسی کا لحاظ رکھتےہیں اور نہ کسی کی بات سنتے ہیں۔اے انسان آپ اپنے رب کو ان پر قیاس نہ کرےکیونکہ وہ ذات بلند،غنی اور قدرت والا ہے وہ تیری آہ و بکا سننے والا بھی ہے وہ تیری گناہ معاف کرنے والا،حتی کہ تیرے گناہوں کو حسنات میں تبدیل کرنے والا ہے۔
خلاصہ
اگر چہ اس مختصر تحقیقی مقالے میں دعائے کمیل سے متعلق جامع بحث کرنا ناممکن تھا کیونکہ دعائے کمیل وہ دعا ہے کہ جس کے اندر علم کا ایک سمندر موجودہے۔اس دعا میں امام علیؑ نے بہت سارے موضوعات سے بحث کی ہے اور وہ بھی کلی طور پر بحث کی ہے لیکن خود وہ کلی موضوعات اتنے زیادہ ہیں کہ ان میں سے ہر ایک سے مختصرا بحث کرنا بھی اس مختصر مقالے میں ممکن نہیں ہے چی جائیکہ انکے جزوی موضوعات کے بارے میں بحث کی جائے۔لھذا جہاں تک ہو سکا اختصار سے کام لیاگیا۔اور صرف چند موضوعات سے کلی طور پر بحث کرنے کی توفیق حاصل ہوئی ہے۔اللہ تعالی کی معرفت اور صفاتِ خدا سے متعلق جو خوبصورت بیان دعائے کمیل میں موجود ہے شاید ہی کم جگہوں پر مل جائے۔اسی طرح اللہ تعالی سے طلبِ مغفرت کا اندازاور بندے کا اللہ تعالی سے ناامید نہ ہونا اور ہر حال میں اپنے پرورگار پر بھروسہ کرنااور بندے کا اللہ تعالی سے راز و نیاز کرنا،متقین کے درجات اور ایسے بہت سارے موضوعات دعائے کمیل میں بہت خوبصورت انداز میں بیان کئے گئے ہیں، کہ جن کابیان اس مختصر سی تحقیق میں ممکن نہیں ہے۔آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں علوم اہل بیت سیکھنے انکے سیرت پر عمل کرنے اور انکے علوم کے تبلیغ کرنے کی توفیق دے۔جن افراد نے علمی میدان میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے اللہ انکو اجرعظیم عنایت فرمائے ۔اللھم عجل لولیک الفرج و جعلنا من اعوانہ وانصارہ۔
فہرستِ منابع

1 :الکوثر فی التفسیر القرآن :مفسرِ قرآن آقائے محسن علی النجفی،طبعِ اول
٢٠١۴،مطبع :عاشق زیب پریس،ناشر:مصباح القرآن ٹرسٹ (لاہور)
2 :نہج البلاغہ :مترجم آیت اللہ مفتی جعفر حسین ،مطبع :کیو۔ پرنٹرز،ناشر:معراج کمپنی
(لاہور)
3 :مصباح المتھجد:مؤلف :الشیخ محمد حسن الطوسی،الناشر : مركز بحوث الحج
والعمرة،تاريخ الإنشاء: 23 سبتمبر 2018
4 :شرحِ دعائے کمیل:تالیف سید عبد الاعلی السبزواری،الناشر :الانتشاراتِ الزائر

5 :۔ دعائے کمیل :مترجم علامہ سید ابن حسن نجفی،مطبع:العباس پرنٹرز

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=25537