2

اعلان امامت و ولایت حکم خدا تھا، علامہ الشيخ قیس الطایی النجفی

  • News cod : 36211
  • 15 جولای 2022 - 17:24
اعلان امامت و ولایت حکم خدا تھا، علامہ الشيخ قیس الطایی النجفی
حضرت آیت اللہ العظمی الشيخ محمد یعقوبی کا قم میں نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین الشيخ قیس الطایی النجفی نے عید غدیر کی مناسبت سے وفاق ٹائمز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آیہ ابلاغ (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ) غدیر خم ميں نازل ہوا ہے رسول اللہ نے خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک اہم ترین فریضہ ادا کیا۔

حضرت آیت اللہ العظمی الشيخ محمد یعقوبی کا قم میں نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین الشيخ قیس الطایی النجفی نے عید غدیر کی مناسبت سے وفاق ٹائمز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آیہ ابلاغ (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ) غدیر خم ميں نازل ہوا ہے رسول اللہ نے خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک اہم ترین فریضہ ادا کیا جس میں خداوند متعال نے واضح طور پر فرمایا: اگر ولایت کا اعلان نہیں کیا تو کار رسالت انجام ہی نہیں دیا یعنی آپ نے اصل ذمہ داری ہی پوری نہیں کی.

انہوں نے کہا کہ ولایت اور امامت کے اعلان کو غدیر خم میں اعلان کرنے کی وجہ امر الہی تھا اور اذن خدا تھا اگرچہ عرفات، مشعر یا مکہ میں اعلان کرسکتے تھے لیکن امر الہی کی اطاعت کرتے ہوئے اس مقام پر اعلان کیا. غدیر کا واقعہ ایک مسلم الثبوت واقعہ ہے اور اس میں کسی بھی طرح کا شک و شبہہ نہیں ہے اس واقعہ کو صرف شیعوں نے نقل نہیں کیا ہے بلکہ اہل سنت محدثین نے بھی نقل کیا ہے. رسول اللہ(ص) کے ساتھ حج کے فرائض انجام دینے والے مسلمانوں کے اس عظیم کاروان کے کچھ لوگ آگے بڑھ چکے تھے آنحضرت نے کچھ لوگوں کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا چونکہ ایک اہم پیغام کو لوگوں تک پہنچانا تھا یہ اعلان کل تبلیغ رسالت کے برابر تھا.
اس پیغام میں فرمایاکہ ”مَن کنتُ مولاہ فعليّ مولاہ” اگر چہ کلمہ مولا کے معنی میں اختلاف کیا ہے لیکن اس روایت کو تمام مسلمانوں نے نقل کیا ہے۔

انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شأن میں نازل ہونے والی بعض آیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کو نبوت کے 23 برسوں میں ہر شخص جان چکا تھا لیکن غدیر خم کے میدان میں آپ(ع) کو امام اور ولی کے عنوان سے متعارف کرایا گیا اور اسلامی معاشرے کے لئے ایک نظام کو وجود میں لایا گیا۔ حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے وہ اپنے جد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: غدیر کا دن زمین والوں سے زیادہ آسمان والوں میں مشہور ہے۔

عراقی معروف عالم دین نے کہا کہ اگر چہ پہلے بھی بہت سی جگہوں پر ولایت امیرالمؤمنین کا اعلان کیا تھا لیکن یہ خداوند متعال کی طرف سے اہتمام کے ساتھ رسمی اعلان تھا. رسول اللہ نے حجة الوداع کے موقع پر اس گرمی میں اس لیے جمع نہیں کیا تھا کہ یہ اعلان کریں کہ میں علی کو دوست رکھتا ہوں، تم بھی علی سے دوستی کرو یا علی میرا بھائی اور ناصر اور مددگار ہے اس کو تو سب جانتے تھے پس یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے ولایت اور امامت سے اہم کوئی چیز نہیں ہے ولایت کے ذریعے توحید، نبوت اور رسالت تحقق پاتا ہے اور ولایت ہی کے ذریعے قرآن ثابت اور محفوظ ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ واقعہ سقیفہ کے بہت سے اسباب ہیں ان میں سے ایک معنی ولی میں اختلاف ہے اسی طرح اہم اسباب میں سے ایک حسد اور حب ریاست تھا مسلمانوں کی اختلاف کا اصل سبب سقیفہ ہے. اگر ممسلمان غدیر کی مخالفت نہ کرتے تو مسلمانوں کی حالت اور صورتحال مختلف ہوتی اور فاطمه زهرا علیها السلام جو کہ رسول اسلام کی بیٹی اور انکی تربیت و پرورش یافتہ تھیں، میدان میں حاضر ہوتی ہیں اور جس طریقہ سے بھی امامت اور اپنے امام وقت کا دفاع کر سکتی تھیں کیا اور ایک لمحہ بھی اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیا. ایسا دفاع کیا کہ خود حضرت امیر المومنین، فاطمہ زہراء کی شہادت کے دن یہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم پیغمبر نے مجھے فرمایا تھا کہ یا علی! اے دو پھولوں (حسنین شریفین) کے باپ! دو رکن آپ سے بہت جلد جدا ہوجائیں گے فلما قبض رسول اللَّه صلى اللَّه عليه و آله قال على هذا احد ركنى الذى قال لى رسول اللَّه صلى اللَّه عليه و آله فلما ماتت فاطمة عليهاالسلام قال على: هذا الركن الثانى الذى قال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه و آله. (3)فرمایا کہ میرا ایک رکن خود رسول گرامی کی ذات تھی اور دوسرا رکن یہ جناب زہراء ہیں جو آج مجھ سے جدا ہو گئیں. یہاں سے معلوم ہوتا ہے فاطمہ زہراء کتنا عظیم سہارا تھیں اور امیرالمؤمنین کیلئے کتنی عظمت کی مالک تھیں، اسی طر ح جس وقت سیدہ کو دفن کر چکے تو قبر رسول کی طرف رخ کر کے فرمایا کہ یا رسول الله قل يا رسول اللَّه! عن صفيتك صبرى وعفا عن سیده النساء العالمیں تجلدى… اما حزنى فسرمد و اما ليلى فمسهّد (4)تیری بیٹی کے چلے جانے سے میرا صبر کم ہو گیا اب میں تنہا ہو گیا ہوں، میری طاقت چلی گئی، میرا غم و غصہ اب ابدی ہو گیا ہے اور میری راتیں اب بیداری میں کٹ جائیں گی جب فاطمہ ہوتی تو اس سے باتیں کرتا اور اپنے غموں کو بانٹتا تھا اور اسکو تسلی دیتا تھا. اب تو وہ بھی آپ کے پاس آ گئی ہیں اب کس کو تسلی دوں گا؟ اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پہلی مدافع ولایت تھیں۔

انہوں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جس طرح سے غدیر کے واقعہ کی اہمیت کو بیان کرنا چاہئے تھا بیان نہیں کیا گیا؛ کہا کہ غدیر بھی امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی طرح مظلوم ہے کیونکہ تاریخ کے اس اہم ترین واقعے کو اس طرح سے بیان نہیں کیا گیا جو اس کا حق تھا یہی وجہ ہے کہ اس کی اہمیت اور مقام اتنا آشکار نہیں ہوا۔

انہوں نے غدیر کو پیغمبر گرامی اسلام کی کاوشوں اور زحمتوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ غدیر محض تاریخ کا ایک سادہ سا واقعہ نہیں؛ بلکہ رسول اللہ(ص) کی تمام کاوشیں واقعہ غدیر سے وابستہ ہیں اور غدیر اور ولایت کے تعارف سے ہی اسلام کامل ہوا، دین کو بقا ملی اور کفار مأیوس ہوئے۔

غدیر کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری کے حوالے سے کہا آیہ شریفہ ان ھذہ امة واحدۃ پر عمل کرتے ہوئے افتراق کو چھوڑ کر مشترکات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے وہ نقطہ اشتراک خود علی علیہ السلام کی شخصیت ہے جو پہلا مسلمان، ناصر پیامبر، اسلام کا خدمت گزار، رسول اللہ کا بھائی اور محور عدالت ہے کہ جس کو سارے مسلمان قبول کرتے ہیں ۔سب سے پہلے خود رسول اللہ نے علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور ولایت کا اعلان کیا اس کے بعد اصحاب نے مبارک باد پیش کی ابوبکر اور عمر بخ بخ کہتے ہوئے تبریک اور تہنیت کہنے والوں میں پیش پیش تھے۔

واقعہ غدیر میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ جس طرح رسول اور نبی کو خود خداوند متعال چنتا ہے اسی طرح نبی کا خلیفہ اور وصی بھی خدا کی جانب سے مقرر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عید غدیر، اسلام کی ابتدائي صدیوں سے ہی ایک رائج عید رہی ہے، اس کے کچھ نمونوں کا ذکر مرحوم علامہ امینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الغدیر میں کیا ہے کہ فلاں جگہ لکھا ہوا ہے کہ مثال کے طور پر “یہ واقعہ رونما ہوا اور وہ دن عید غدیر کا دن تھا، یا اٹھارہ ذی الحجہ کا دن تھا۔” یعنی تاریخ اسلام میں صدر اسلام سے ہی عید غدیر کی حیثیت سے متعدد نمونوں کا ذکر کیا گيا ہے؛ فاطمی خلفاء کے دور میں، مصر میں اور دوسری جگہوں پر۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=36211