یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
قارئین! آئیے دیکھتے ہیں کہ ’’عبادت ‘‘کے معنی کیا ہیں؟ تو کتبِ لغت کی طرف رجوع کرنے سے جو معنی ملتے ہیں وہ ہیں ’’اللہ کو ایک جاننا، خدمت کرنا، خضوع و خشوع کرنا اور ذلیل ہونا‘‘جبکہ ’’عبودیت اور عبدیت‘‘ کے معنی ہیں ’’آباء و اجداد سے اطاعت اور غلامی میں چلے آنا‘‘
اس شب کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ رات با برکت و با عظمت ہے ” لیلۃ العظمۃ”اور قرآن مجید میں لفظ قدر عظمت و منزلت کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت میں ہے " ما قدروا اللہ حق قدرہ ” انھوں نے اللہ کی عظمت کو اس طرح نہ پہچانا جس طرح پہچاننا چاہئے۔
روزہ کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ انسان اس مہینہ میں اپنے ان دشمنوں کے خلاف آمادہ ہو جنہوں نے اس سے تکامل کا راستہ چھین لیا ہے، دشمن سے مقابلہ کرنے اور اس پر غلبہ پانے کے لئے صبر و استقامت کی مشق کرے
قرآن کریم بے نظیر ہدایت ہےجو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے توسط سے اللہ نے نازل کیا ہے۔ انسان اس کتاب آسمانی کی تعلیمات کے سایے میں اس دنیا میں سکون اور اطمینان سے بھری زندگی گزارسکتا ہے۔
علامہ صاحب کی ابتدائ شاعری میں میر صاحب کی تعلیمات کا اثر نظر آتا ہے
حضرت خدیجہؑ نے اپنی ساری دولت اسلام کی راہ میں خرچ کی۔ پیغمبر اکرمؐ نے حضرت خدیجہؑ کے احترام میں ان کی زندگی کے دوران دوسری زوجہ اختیار نہیں کی اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کو اچھے الفاظ میں یاد فرماتے تھے۔
خادم دین خدا علامہ محمد علی فاضل 14 ستمبر 2021 میں داعی اجل کو لبیک کہ گئے اللہ تعالی آپکی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور جوار سرکار معصومین علیہ السلام میں اعلی مقام عنائت فرمائے
شہید ڈاکٹر کا یہ احساس ذمہ داری ہی تھا، جس نے انہیں قوم و ملت کے اجتماعی امور کو انجام دینے کے لیے آمادہ کیا، جس کی وجہ سے روز و شب ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
قرآن مجید ایک انوکھا، قیمتی، شفا بخش اور رہنما تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی نوع انسان کے لیے پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ انسان اس عظیم کتاب کے عملی استعمال اور استفادے کے بغیر دنیا میں سکون، اطمینان اور اطمینان کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔