صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
سیر و سلوک اور باطنی پاکیزگی کے حوالے سے ایک بہترین کتاب ” رسالہ لقاءاللہ” کہ جسے امام خمینیؒ کے اساتذہ میں سے ایک بہت بڑی شخصیت عظیم فقیہ، عالی قدر عارف، آیت اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزیؒ نے تحریر کیا ہے اور اس میں مذید کاوش ایک بہت بڑی ہستی سید احمد فہری نے اس کا پیش لفظ ،اس رسالے کا ترجمہ اور اس میں مذید حاشیے اور وضاحتیں بیان کیں۔
کسی بھی قوم و ملک کی ترقی اس کے سماجی حالات پر انحصار کرتی ہے ایک ترقی یافتہ قوم کے وجود اور بقاء کے لیے معاشرے کے تمام افراد اپنے حصے کا کردار ادا کرنے میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اکیلا فرد اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے طرح طرح کی مشکلات سےدو چار ہوتا ہے اور منفی قوتیں الگ سے اسے الجھنوں کا شکار کرتیں ہیں ۔
شیخ محسن نجفی 1974ء میں وطن عزیز پاکستان واپس تشریف لائے اور انہوں نے اپنی قوم اور ملت کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا عزم کیا
حضرت امام محمد تقی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اورسب سے نیکی و احسان کرنے والے تھے۔آپ کے جودوکرم کے بعض واقعات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں: 1۔اسحاق جلّاب سے روایت ہے:میں نے یوم الترویہ (٨ ذی الحجہ)امام علی نقی کے لئے بہت زیادہ گوسفندخریدلے جن کوآپ نے تمام دوستوں واحباب میں تقسیم فرمادیا۔ حیاةالامام علی نقی ،صفحہ ٢٤٣
اہل ایمان کی نشانی انکی آواز رسول کریم ص کی بارگاہ میں نیچی ، ادب اندرونی تقوی کا اظہار ، قرآن میں کلام کے آداب ، پہلے مغفرت پھر اجر ، اہل انتظار باادب ہیں۔
امام محمد باقرؑ کی سیرت کا ایک پہلو آپؑ کے علم میں پوشیدہ ہے آپؑ کے علم کا سرچشمہ بھی دیگر ائمہ اطہارؑ کی طرح وحیِ پروردگار تھا لہذا آپؑ نے بھی بشری مکتب میں کہیں کچھ نہیں سیکھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جناب جابر بن عبداللہ انصاری اپنی اس عمر میں بھی امام محمد باقرؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان سے کچھ سیکھ کر جاتے اور ہمیشہ عرض کیا کرتے تھے کہ اے باقر العلوم میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ بچپنے میں ہی خدائی علم سے مستفید ہو رہے ہیں۔
تمام اعمال خیر کی نابودی کا باعث: آیہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ بسا اوقات تمھیں معلوم بھی نہیں ہوتا اور تمھارے اعمال تباہ ہو جاتے ہیں۔ خود عمل کی حفاظت عمل کرنے سے اہم ہے۔ ہمارے اعمال بسا اوقات تو آغاز سے ہی تباہ ہوتے ہیں کیونکہ یا تو ان کے اندر ریاء ہوتی ہے یا دکھاوا ہوتا ہے۔ اور بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ پہلے تو سب ٹھیک ہوتا ہے لیکن پھر انسان خودپسندی اور غرور کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر وہ عمل درمیان میں ہی نابود ہو جاتا ہے۔
محسن ملت کے نمایاں کارناموں اور خدمات کے بارے میں بہت سارے قلمی احباب نے لکھا ہے اور آئندہ بھی آپ کی خدمات پر اہل قلم لکھتے رہیں گے۔ مختصر یہ ہے کہ فلاحی کاموں، تعلیمی اداروں اور تبلیغی تحریکوں کے لئے ان کا وجود خیر و برکت کا جلی عنوان تھا
یا ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص امام معصوم ؑ کی خدمت میں پیش ہوا تو امامؑ نے اسے ایک دعا تعلیم فرمائی جو لا الہ الا اللہ سے شروع ہوتی ہے اور یوحی و یموت پہ ختم ہوتی ہے اس نے کہا کہ اگر اس طرح پڑھوں کہ ویموت و یوحی۔ مولاؑ نے کہا کہ تو بھی ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن اس طرح پڑھ جس طرح میں کہہ رہا ہوں۔