غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
ام الفضل کی روایت : ہےکہ وہ رسول اللہ ؐکی خدمت میں آئیں اور بولیں : اے اللہ کے رسول!میں نے آج رات ایک برا خواب دیکھا ہے۔ فرمایا وہ کیا ؟ام الفضل نے کہا : وہ بہت سخت ہے ۔فرمایا :اسے بیان کرو۔ بولیں: میں نے دیکھا گویا آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔
اقوام عالم کے نزدیک یزید اور یزیدیوں کے نام گالی بن کے رہ گئے۔ جبکہ امام حسین ع اور آپ کے اصحاب خیر و برکت کا استعارہ ٹھہرے، کیونکہ آپ نے انسانی اقدار کی پامالی برداشت نہیں کی، اور یزیدیوں کے پاؤں تلے روندے گئے اقدار کے احیا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔
محرم اپنے وقت کے امام کے ظہور کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو ہٹا کر منجی عالم بشریت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے زمینہ فراہم کرنے کا مہینہ ہے؛ تاکہ وقت کا امام ظہور کرکے شہدائے کربلا کے خون کا انتقام لے سکیں۔
كَيْفَ يُسْتَدَلُّ عَلَيْكَ بِما هُوَ فى وُجُودِهِ مُفْتَقِرٌ اِلَيْكَ اَيَكُونُ لِغَيْرِكَ مِنَ الظُّهُورِ ما لَيْسَ لَكَ حَتّى يَكُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَكَ مَتى غِبْتَ حَتّى تَحْتاجَ اِلى دَليلٍ يَدُلُّ عَليْكَ وَمَتى بَعُدْتَ حَتّى تَكُونَ الاْ ثارُ هِىَ الَّتى تُوصِلُ اِلَيْكَ عَمِيَتْ عَيْنٌ لا تَراكَ عَلَيْها رَقيباً، اے پروردگار ،وہ چیز کیسے تیری رہنمائی کرسکتی ہے، جو اپنے وجود میں ہی تیری محتاج ہے؟آیا تیرے سوا کسی اور شے کے لئے ایسا ظہور ہےجو تیرے لئے نہیں ہےیہاں تک کہ وہ تجھے ظاہر کرنے والی بن جائے؟ تو کب غائب تھا کہ کسی ایسے نشان کی حاجت ہوجو تیری دلیل ٹھہرے؟ تو کب دور تھا کہ آثار اور نشان تجھ تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنیں؟
تحریر: نذر حافی مانا کہ حضرت امام حسینؑؑ سید الشہداء ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ تاہم مجھ جیسوں کو آپ کے جہاد کا ہدف ابھی تک سمجھ نہیں آیا۔ سمجھنے کا حق کسی سے نہیں چھینا جا سکتا۔ سوال کرنے پر پابندی ایک غیر مہذب رویّہ ہے۔ ت
آج عید غدیر ہے، دین کی تکمیل اور اپنے بندوں پر خدا کے احسانات کی تکمیل کی عید ہے، جو رسول اللہ (ص) کے مکہ مکرمہ کے آخری حج کے دوران اختتام پذیر ہوئی تھی۔ غدیر کا واقعہ غالباً پیغمبر اکرم (ص) کی ولادت کے بعد عالم اسلام کا سب سے اہم اور عظیم واقعہ ہے جس کی بنیاد پر خدا کے دین کو اپنے صحیح راستے پر گامزن ہونا ہے۔
ہماراگلا قدم يہ ہے کہ ہم اس بات کو ياد رکھيں ،کہ سوائے ائمہ معصومين (ع) کے تمام انسان جايز الخطاء ہيں ، اور مختلف قسم کي لغزشوں سے دو چار ہو سکتے ہيں ۔
حال میں موجودہ دور میں ہونے والے حوادث کو بیان کیا گیا ہے اور دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان حوادث کے درمیان جو سب سے اہم حادثہ رونما ہوتا دکھایا گیا ہے (کہ جو نوسٹراڈيموس کے اشعار ميں بھي ہے) وہ انقلاب اسلامی ایران ہے، اس کے علاوہ گذشتہ اور حال کے بہت سے دوسرے نمونے فلم بین کو اس نتیجہ پر پہنچاتے ہیں کہ جو بھی آیندہ کی نسبت کہا گیا ہے وہ ضرور محقق ہوگا۔
ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اولو الامر نے یہ حکم دیا ہے کہ امام معصوم علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں مسلمانوں کا حاکم ولی فقیہ ہونا چاہئے ، لہذا ہم مسئلہ ولایت کو صرف ایک اعتقادی اور ایک قلبی اور معنوی امر نہ بتائیں بلکه اسلام کی سیاسی قدرت اسی میں ہے ۔