غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
اگر ہم نے یہ جلسے یہ جلوس یہ چیزیں چھوڑ دی، تو لوگ کربلا کو بھی بھول جائیں گے جس طرح لوگ غدیر کو بھول گئے تھے
تحریر: نذر حافی مجھے چند ایک ای میل موصول ہوئیں، دو تین مرتبہ کالز بھی آئیں، بات ایک ہی تھی لیکن افراد مختلف تھے، وہ سیلاب کی بات کر رہے تھے۔ ہمارے ہاں آج کل سیلاب کے ویسے بھی بہت چرچے ہیں۔ زلزلے یا سیلاب سے تو ہماراچھٹکارا ممکن ہی نہیں، اس لئے ہم مس منیجمنٹ کے بجائے ہمیشہ طوفانوں کے ساتھ لڑتے ہیں۔
اگر چہ کربلا میں پیاس کے متعلق بیان شدہ شبہات کا جواب نقد کے قابل ہے لیکن تاریخی قرائن اور بہت سے دلائل ایسے ہیں جو حقیقت کو بیان کرتے ہیں اور وہ حقیقت یہ ہے کہ کربلا میں شدید پیاس تھی اور پانی بند کردیا گیا تھا ۔
اسلامی معاشرے کا نظام سنبھالنے اور اسلامی معاشرے کی پیشرفت کی ذمہ داری سبھی کے کندھوں پر ہے؛ عورت کے کندھے پر، مرد کے کندھے پر، ہر ایک پر اس کی اپنی صلاحیتوں کے حساب سے۔ اس میں کوئی بحث نہیں ہے کہ عورت گھر کے باہر کوئي ذمہ داری سنبھال سکتی ہے یا نہیں –
مفتی صاحب کا گھرانہ حکمت و طب میں بہت نامور تھا، ان کے چچا حکیم شہاب الدین جنہیں طب میں مہارت حاصل تھی، ادبی لحاظ سے بھی ایک مقام رکھتے تھے اور انہیں اردو، فارسی، پنجابی میں شاعری سے شغف تھا۔ چچا حکیم شہاب الدین نے ہی جعفر حسین کی پرورش اور تربیت اپنے ذمہ لی تھی۔ کہتے ہیں کہ چچا کی تربیت اور تعلیم جعفر حسین کے قلب و نظر کو پاکیزہ اور روشن کرنے کا سبب بنی۔
جرائم پیشہ اور فاسد و بدعنوان بعثیوں اور کرائے کے مزدوروں کو ملک میں اہم عہدوں اور ذمہ داریوں سے ہٹایا جانا چاہئے اور انہیں کسی طور پر طاقت و اقتدار نہ دیا جائے کیونکہ وہ کبھی آپ کی بھلائی نہیں چاہتے اور سوائے اپنے پارٹی کے مفادات اور استعماری آقاؤں اور صیہونیوں اور ان کے آلۂ کاروں کی خدمت کے کچھ بھی نہیں چاہتے۔
قارئین محترم! حکومت کی حالت سے ہم باخبر ہیں یہ تو صرف اقتدار کے بھوکے ہیں لیکن ان ایام میں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ ایک انسان ہونے اور انسانیت کے ناطے ہمارا وظیفہ کیا بنتا ہے۔ آیا ہم بھی گھر بیٹھے ٹی وی کو سامنے رکھ کر تماشائی بنے رہے یا جہاں تک رسائی اور ہماری استطاعت کے تحت کچھ مدد بھی کریں۔
مام زین العابدین علیہ السلام نے مدینہ آنے کے بعد بھی اپنا مشن جاری رکھا اور ہر موقع پر یزیدی حکومت کے جرائم اور کربلا والوں کی مظلومیت بیان کرتے رہے۔ مدینہ میں داخل ہوتے ہی امام سجاد علیہ السلام نے ایک شاعر کو دعوت دی اور اسے سید الشہداء علیہ السلام کی مظلومیت پر شعر کہنے کا حکم دیا۔
بغیر سائنس کی جانکاری کے انسانی جانوں کے ساتھ یہ کھلواڑ اس وقت بھی جاری رہا کہ جب کرونا ویکسین مارکیٹ میں آگئی۔ عوام النّاس کو کہا گیا کہ خبردار جو لوگ یہ ویکسین لگوائیں گے، وہ دو سال کے اندر مر جائیں گے، اُن کی افزائشِ نسل نہیں ہوگی اور وہ ازدواج کے قابل نہیں رہیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔