غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
سنہ 1220ھ میں تین سال کے محاصرے اور شہر میں قحطی آثار نمودار ہونے کے بعد وہابیوں نے مدینے پر قبضہ کر لیا۔ دستیاب منابع کے مطابق سعود بن عبدالعزیز نے مدینہ پر قابض ہونے کے بعد مسجد نبوی کے خزانوں میں موجود تمام اموال کو ضبط کرتے ہوئے شہر میں موجود تمام بارگاہوں من جملہ قبرستان بقیع کی تخریب کا حکم صادر کیا۔
نجف اشرف کے علمی و معنوی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔ باب مدینۃ العلم سے کسب فیض کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو کئی چیلنج در پیش تھے۔ اس وقت دینی تعلیم و تربیت کے مراکز یعنی مدارس دینیہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے جن میں چند ایک کے علاوہ باقیوں میں فاضل اساتذہ کا فقدان تھا۔ دختران ملت کی تعلیم و تربیت کے اداروں کا تو شاید تصور تک نہ تھا۔ مساجد میں ضروری دینی معلومات رکھنے والے پیش نمازوں کی بھی سخت کمی تھی۔ عوام تک دین پہنچانے کا سب سے موثر فارم منبر حسینی علمی فقر کا شکار ہی نہیں بلکہ انحرافات کی زد میں تھا۔
شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس نجفی رہ کا شمار پاکستان کے ان ممتاز علماء دین میں ہوتا ہے جو ملت جعفریہ پاکستان کی تاریخ میں ترویج و تحفظ علوم دین کے لیے رہنما کی حیثیت سے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں اور جن کی زندگی کو علم و عمل کے میدان میں آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ کے طور پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے
سعودی عرب کی کمان میں فوجی اتحاد کے حملے، 25 مارچ 2015 کو شروع ہوئے۔ یہ حملے امریکا اور بعض یورپی ملکوں کی فوجی، لاجسٹک اور انیٹیلیجنس سپورٹ سے انجام پائے۔ اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیشن آفس کے اعداد و شمار کے مطابق یہ حملے، ستمبر 2020 تک 2 لاکھ 33 ہزارافراد کی موت کا سبب بنے۔ ان میں سے 1 لاکھ 31 ہزار افراد غذائیت کی کمی، حفظان صحت اور علاج معالجے کی سہولتوں کے فقدان، اور یمن کے بنیادی ڈھانچے کی نابودی کے باعث موت سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق تین ہزار ایک سو بچے اور پانچ ہزار چھے سو ساٹھ، پانچ سال سے کم عمر کے کمسن بچے جن میں نو زائیدہ بچے بھی شامل ہیں، اس جنگ کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ (2)
نجف اشرف کے علمی و معنوی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔ باب مدینۃ العلم سے کسب فیض کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو کئی چیلنج در پیش تھے۔ اس وقت دینی تعلیم و تربیت کے مراکز یعنی مدارس دینیہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے جن میں چند ایک کے علاوہ باقیوں میں فاضل اساتذہ کا فقدان تھا۔ دختران ملت کی تعلیم و تربیت کے اداروں کا تو شاید تصور تک نہ تھا۔ مساجد میں ضروری دینی معلومات رکھنے والے پیش نمازوں کی بھی سخت کمی تھی۔ عوام تک دین پہنچانے کا سب سے موثر فارم منبر حسینی علمی فقر کا شکار ہی نہیں بلکہ انحرافات کی زد میں تھا۔
تحریف لفظی سے مراد آسمانی کتابوں کی آیتوں اور عبارتوں میں کمی و بیشی کرنا ہے جبکہ تحریف معنوی سے مراد آسمانی کتابوں کی آیتوں اور عبارتوں کی غلط تفسیر و تاویل کرنا جسے اصطلاح میں تفسیر بالرائے کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیتوں میں اضافہ نہ ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ شیعوں کی اکثریت کا نظریہ ہے کہ قرآن کریم میں تحریف لفظی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
گذشتہ تہتر سال سے اسرائیل کی صیہونی حکومت مظلوم فلسطینی عوام پر مختلف انداز سے مختلف مظالم اور زیادتیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جہاں اسرائیل اپنے مظالم میں سخت سے سخت ترین ہوتا جارہا ہے ویسے ہی فلسطینی عوام اپنی استقامت میں مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین تقریباً دنیا کے تمام فورمز پر موجود ہے اور کبھی کبھار زیر ِ بحث بھی آجاتا ہے لیکن مسئلے کا حل اس لئے نہیں نکل رہا کہ اسرائیل کی حامی اور سرپرست طاقتیں اپنی دھونس کے ذریعے دیگر ممالک کو بلیک میل کرتی ہیں۔
انبیاء الہی کے معجزات غالبا اسی عصر کے فنون اور علوم کے ساتھ ہماہنگ تھے ۔دانشمند ان ان معجزات کے مطالعے کے بعد ان کے خارق العادہ ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔ ۔اس زمانے میں خدا وند متعال نےقرآن کریم کو فصاحت و بلاغت کے بالاترین مرتبے کے ساتھ نازل کیا تاکہ کوئی قرآن کےمعجز ہ ہونے کےبارےمیں شک نہ کرے
امیرالمؤمنین علی ابن ابیطالب علیہما السلام کی معرکة الآراءشخصیت کو مسلمانوں ہی نے نہیں دوسروں نے بھی زبان و قلم سے بے پناہ خراج تحسین پیش کیا۔علی کے فضائل و کمالات کا اعتراف در اصل اسلام اور رسول گرامیﷺ اسلام کی تعلیم و تربیت کی عظمت کا اعتراف ہے۔رہتی دنیا تک ارباب انصاف، فرزند ابوطالب کی شان بیان کرتے رہیں گے۔ تجزیہ نگاروں نے اس عظیم انسان کے قتل کے بارے لکھا قتل فی محرابہ لشدة عدلہ علی کو اس کی عدالت میں شدت کی وجہ سے قتل کیا گیا ۔