غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
دنیا کے مسلمان فخر کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے «جہاد کا قانون» اور لوگوں کی اقدار کی حفاظت اور دفاع کو مذہب کا عملی رکن قرار دیا ہے اور قرآن مجید میں اس کے احکام سے متعلق سینکڑوں آیات نازل کی ہے ۔
امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اہل ِ بیت رسول ؐ اور صحابہ کرام میں منفرد حیثیت کے حامل تھے۔ ایک ہی وقت میں مختلف جہات بلکہ ہمہ جہت شخصیت ہونے کا اعزاز بھی آپ کے حصے میں آیا۔ انبیاء ‘ اوصیاء ‘ صلحا ء اور اولیاء میں تاریخ نے ایسے نادر انسان کم دیکھے ہیں جو ایک ہی وقت میں علم کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں اور منصب ِ حکومت نبھانے میں بھی اعلیٰ مہارت رکھتے ہوں۔
سوال: اگر معاویہ نیک ا ور اچھا انسان تھا تو حسن بن علیؑ نے ان کے ساتھ صلح کیوں کی؟ انہوں نے اسلامی حکومت کسی برے شخص کے سپرد کیوں کی؟ حسن بن علیؑ کے پاس زیادہ تعداد میں سپاہی تھے پھر بھی معاویہ کے ساتھ صلح کی لیکن امام حسین ؑکے پاس زیادہ سپاہی نہ ہوتے ہوئے بھی یزید کے ساتھ جنگ کی؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان دو طریقوں میں سے ایک طریقہ غلط تھا؟
وہ بااخلاق خاتون جن کی توصیف عصر جاہلیت میں حضرت ابو طالب اس طرح سے کرتے ہیں، (انّ خديجةَ اِمْرَأَةٌ كامِلَةٌ مَيمُونةٌ فاضِلَةٌ تَخْشَي العار و تَحْذِرُ الشَّنار)۱۔بے شک خدیجہ ایک کامل پربرکت اور فاضلہ عورت ہے جو ہر قسم کے ننگ و عار اور بدنامی سے دور ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کرونا دنیا کے تمام ممالک کے لئے ایک ایسا خطرہ بن چکا ہےکہ جس کے سامنے ریاستی سرحدیں، رنگ، نسل، مذہب سب کچھ بے معنی ہوکر رہ گیاہے، عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس وبا کا مناسب سد باب نہ کیا گیا تو اس کے تباہ کن اثرات عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں؛ اس وقت کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے اکثرممالک کو اربوں ڈالرکا نقصان ہوچکا ہے اور لاکھوں افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں؛ لہذا اس عالمی وبا کے سد باب کے لئے ایک نہایت سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
قرآن مجید کے تحریف سے محفوظ رہنے اور طول تاریخ میں اس کی عدم تبدیلی کی دلیل وہ احادیث بھی ہیں جوپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی ہیں۔
رمضان مبارک اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور یہ سارے مہینوں سے افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں جنت اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔
اباصلت کہتے ہیں: ماہ شعبان کے آخری جمعے کو حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ؑ نے فرمایا: اے ابا صلت! ماہ شعبان کے زیادہ حصہ گزر گیا اور آج اس مہینے کا آخری جمعہ ہے۔ اس کے باقیماندہ دنوں میں گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کرو اور جو چیزیں تمہارے لئے انتہائی اہم ہیں ان کو بجا لاؤ
۔ تحریف کے مسئلہ میں بھی زیادہ تر اس موضوع پر بحث و گفتگو ہوتی ہے اور یہ موضوع فریقین کے درمیان معرکة الآراءہے کہ کیا قرآن مجید میں کوئی چیز کم ہوئی ہے یا نہیں