دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
مولانا سید صفدر حسین نجفی 1932ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے اور 3 دسمبر 1989ء کو لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔ بظاہر یہ ایک مختصر سی زندگی ہے، لیکن ان کے کاموں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ایک شخص کو جوانی کے دو سو سال ملے ہیں اور اس نے ان میں خوب کام کیا ہے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا پاکستان میں اسلام دشمن قوتوں نے ڈالرز خرچ کر کے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دی، آج صورتحال یہ ہے کہ پاکیزگی، معنویت، تقدس، خدا پرستی اور محبت کے جذبات پر عناد، عدم برداشت اور شدت پسندی حاوی ہے۔ معاشرہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس قدر دور کر دیا گیا ہے کہ کھلے عام فحاشی کے پھیلائے جانے پر اعتراض نہیں ہوتا لیکن میلاد کی محافل پر پابندی یا عزاداری کے جلوس کو روکنے کے لئے ایک پورا گروہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی کا شیعہ علماء کونسل ضلع نوابشاہ کی جانب سے منعقدہ ورکرز کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ تنظیم کے دستور کے مطابق جو تنظیمی طرف سے ذمہ داری ملی ہے اس کو احسن انداز میں انجام دیں۔
کراچی: معروف عالمِ دین و مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی نمازِ جنازہ دارالعلوم کراچی میں ادا کردی گئی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 روز قبل لاپتہ ہونے والے معصوم بچے کی ذبح شدہ نعش کھیتوں سے برآمد ہوگئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں، ملک کی 75 سالہ تاریخ میں کسی نے اتنے الزام نہیں لگائے جتنے عمران خان نے لگائے، وہ بار بار ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ نواز شریف مرضی کا آرمی چیف لارہے ہیں۔
ایس یو سی کے مرکزی نائب صدر نے اپنے ایک بیان میں مرحومین کے لئے مغفرت، بلندی درجات اور زخمیوں کے لئے جلد شفایابی کی دعا بھی کی۔
اس سے قبل شیراز میں شاہ چراغ مزار پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں شہید ہونے شہداء میں، پانچویں جماعت کا طالب علم ارشام سراداران بھی شامل تھا۔
میگزین Franc-Tireur میں شائع ہونے والا یہ توہین آمیز خاکہ، جس میں سیاہ و سفید عماموں کو نذر آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغربی استعمار اور صیہونزم شیعہ مرجعیت کو مشرقی دنیا پر بالادستی حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنے مذموم عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔