صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایران وزیر خارجہ، ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی، خلیج فارس کی تاریخ بیرونی جارح قوتوں کے عبرتناک انجام کی متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،
اہل تشیع رکن سید حسنین عباس گردیزی کی جگہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کو مقرر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ محمد اسلم ترین کی جگہ حافظ عمار یاسر اور فیض بخش رضوی کی جگہ ناظم الدین کو ولنٹیئر رکن مقرر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
علامہ غلام حسنین نے ہمیشہ پاکستان بچانے اور قوم کو متحد کرنے کی بات کی ہے۔ انہیں بے بنیاد الزام لگا کر ذہنی طور پر ٹارچر کرنا انصاف نہیں ہوسکتا ہے۔ علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ کاش ہمارے ادارے پاکستان کے اصل دشمنوں کو پہچان لیں
اپنے ایک بیان میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ڈر ہے کہ ملک کے اندر معاشی اور سیاسی استحکام استعماری قوتوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کا سبب نہ بن جائے۔
کراچی سمیت پاکستان بھر میں 13 جمادی الاول تا 3 جمادی الثانی تک مسلسل 20 روز ایام شہادت خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے عزاداری اور مجالس و جلوس عزا کا سلسلہ جاری رہتا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ جعفری جوان تعلیمی میدان میں نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کریں
شعبہ تحقیقات جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کی جانب سے مرحلہ وار برگزار ہونے والے علمی تحقیقاتی نشستوں کے سلسلے کی پہلی نشست بروز جمعہ ۲ دسمتر ۲۰۲۲ کو فاطمیہ ہال حسینیہ بلتستانیہ قم میں برگزار ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور انہوں نے اپنے امور اور فعالیت کو صرف دینی مدارس کی تاسیس ہی کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ دیگر قومی مسائل میں بھی بڑھ چڑھ کو حصہ لیا اور سخت و بحرانی حالات میں قوم کی بہترین انداز میں رہنمائی فرمائی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف طرح طرح کا پراپیگنڈا جاری تھا، انھوں نے اس کے دفاع میں رسائل لکھے اور لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنی مجالس میں بھی امام خمینیؒ کا ذکر کرتے اور انقلاب کی حمایت مختلف انداز سے جاری رکھتے
ایک بیان میں ایس یو سی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے والی شخصیات کے خلاف جب تک گھیرا تنگ نہیں کیا جاتا تب تک دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔