صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
حوزہ/ ۲۸۰ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مصنف ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے تاریخی اور زمانی اسلوب کے تحت حزب اللہ لبنان کی تاسیس سے حالیہ فتوحات تک کے حالات و واقعات کی تدوین اور ان پر اپنا تجزیہ و تبصرہ پیش کیا ہے۔
مظلومانہ شہادت، مقاومت کی علامت، بافضیلت عالم اور قدس و مظلوم فلسطینیوں کے مدافع کی شہادت نے اسلامی دنیا کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے تنظیم کے سربراہ کی شہادت کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ شہید حسن نصراللہ امام خمینی اور رہبر معظم کے پیروکار تھے۔
انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کو مالک اشتر جیسی شخصیت قرار دیا، جو پہاڑ کی مانند مضبوط اور غیر متزلزل تھے، اور ان کی سب سے اہم خصوصیت ولایت سے وابستگی اور اس کی اطاعت تھی، وہ اپنی زندگی مقاومت، مظلوموں کے دفاع اور ظالموں سے مقابلہ کرنے کے لیے وقف کر چکے تھے۔
پرنسپل مدرسہ الامام المنتظر قم ایران حجت الاسلام سید حسن نقوی نے سید حسن نصر اللہ اور ان کے ساتھیوں کی المناک شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انشاء اللہ ان عظیم شہادتوں کے تسلسل سے اسلامی تحریکیں مستحکم ہونگی اور دنیا بہت جلد منجی عالم امام زمان عج کے ظہور و قیام کی طرف بڑھے گی۔
عظیم رہنماؤں کا فقدان اگرچہ تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن ان کے خون کی برکت سے مقاومتی محاذ ہمیشہ اپنے مقدس راستے پر مزید مضبوطی کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔
صہیونی دہشتگرد نے اپنے خبیث اور جنایت کار ہاتھوں کو اس عظیم شہید اور لبنان کے سینکڑوں بے گناہ عوام کے خون سے رنگین کرکے اپنی بدصورت چہرے کو دنیا کے سامنے مزید سیاہ کردیا ہے اور امید ہے کہ اس شہادت کے ساتھ اس سرطانی غدود کا خاتمہ بہت جلد ہو گا، إن شاء الله۔
سید مقاومت سید حسن نصر اللہ رضوان الله علیه، حزب اللہ کے عزیز رہنما کی افتخار آمیز شہادت، تمام ان لوگوں کے لیے جو اسلام اور امام حسین علیہ السلام کے عظیم مکتب سے وابستہ ہیں اور جو عالمی کفر اور سفاک صہیونی رژیم کے خلاف کھڑے ہیں، ایک بہت افسوسناک اور دلسوز خبر تھی۔