صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
کانفرنس میں نجف اشرف کے حوزہ علمیہ کی بزرگ علمی شخصیات، مختلف ممالک جیسے پاکستان، آذربائیجان، سعودی عرب، لبنان، افریقہ، افغانستان، انڈیا، اور ترکی کے طلبہ نے بھی بھرپور شرکت
انہوں نے حجۃالاسلام مولانا سید علی رضا رضوی سے ملاقات کے دوران کہا: اگر انسان اپنی ابدی حقیقت کو سمجھ لے، تو وہ ایسے اعمال انجام دے گا جو ہمیشہ کے لیے فائدہ مند ہوں، دنیا کی اصلاح قتل و غارت کے ذریعے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کے ذریعے ممکن ہے، عدل، عقل اور اصلاح ہی دنیا کے نظام کو چلا سکتے ہیں، ظلم، وہم اور اسلحہ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ممالک کو عسکری طاقت سے فتح کیا جاتا تھا، تاکہ ان ممالک کے وسائل کو لوٹ سکیں۔ استعمار تجارتی اور اقتصادی ذرائع کے ساتھ ممالک میں داخل ہوتے تھے اور پھر ہتھیاروں اور فوجی قوتوں کی مدد سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتے تھے۔
لبنانی اخبار "الاخبار" کی رپورٹ کے مطابق بعض حلقوں نے آیت اللہ سید علی سیستانی سے درخواست کی ہے کہ وہ الحشد الشعبی عراق کے انحلال کے لیے فتویٰ جاری کریں لیکن نجف اشرف کے اس شیعہ مرجع تقلید نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایران دمشق میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
اس بین الاقوامی ویبینار میں ایران سے محترمہ لطیفه دوجی اور مولوی اسحاق مدنی ، لبنان سے محترمہ رباب جوهری، عراق سے محترمہ ساجده الحائری اور انفال الحلو، پاکستان سے محمد رضا ثاقب مصطفایی، افغانستان سے مریم سیرت شیخ زاده، نائجیریا سے فاطمه ثانی،گفتگو کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ: "مسلم خواتین کو چاہیے کہ وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی سے سبق حاصل کریں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کریں بلکہ معاشرتی چیلنجز کا بھی کھل کر سامنا کریں۔"
جامعہ روحانیت بلتستان شعبہ خواتین کے زیر اہتمام حسینیہ بلتستانیہ میں دختر رسول، سیدہ کونین حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ایک پرجوش اور روحانی محفل کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
انہوں نے حوزہ علمیہ کی فکری اور ثقافتی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدارس صرف مطالبات پیش کرنے والے نہیں بلکہ ان کے جوابات دینے والے بھی ہیں، آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ اگر مدارس، دین اور ثقافت کے معمار اور رہنما نہیں ہوں گے تو وہ اپنے حقیقی منصب و مقام سے محروم ہو جائیں گے۔