یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























سکردو میں نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ و الجماعت نے کہا کہ اگر عام معافی کا اعلان کیا جاتا ہے تو بلتستان میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور عوام و مسلح افواج کے درمیان موجود خلیج ختم ہو جائے گی اور بلتستان گلستان بن جائیگا۔
ہمیں اس دن کی مناسبت سے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس عظیم نعمت الہیہ کی سربلندی اور حفاظت کے لئے کوشش کرنی چاہئے
عالم جلیل القدر جناب حجةالاسلام والمسلمین آقائے الحاج سیّدمحمّد ضیاءآبادی رضوان اللہ علیہ کی رحلت پر مرحوم و مغفور کے معزز اہل خانہ سمیت ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کی خدمت میں تعزیت عرض کرتا ہوں۔اس عظیم عالم دین نے فصیح زبان اور مؤثر بیاں،روشن فکر، متذکر اور شائستہ دل کے ذریعے سننے والے کانوں اور بااستعداد دلوں کو دینی اور اخلاقی علم کا ایک قابل قدر ہدیہ عطا کیا.
کانفرنس میں اس موقع پر مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبود محترمہ فرحانہ گلزیب نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوۓ فضائل و سیرت جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا پر روشنی ڈالی۔
العزم علمی و ثقافتی مرکز قم مقدسہ کی جانب سے دنیائے اسلام کے عظیم مفکر و فلاسفر حضرت آیت اللہ مصباح یزدی کی "چراغ راه بصیرت"کے عنوان سے تجزیاتی علمی نشست جمرات 11 فروری 2021ء کو مدرسہ امام خمینی رح کی مسجد میں ہوگی.
مدرسہ حفاظ القرآن سکردو عصر حاضر کا ایک جدید ترین درس گاہ ہے جس میں قرآن مجید کو جدید اسلوب میں یاد کرایا جاتا ہے اور حفظ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ سائنسی و سماجی علوم کی بھی باقاعدہ کلاسس ہوتی ہیں ۔
کانفرنس کی صدارت امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین علی جانی کریں گے۔
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ میں واقع شہر پشاور میں قائم ایرانی خانہ فرہنگ کے زیر اہتمام اور پاکستان کی ثقافتی اور مذہبی تنظیموں سمیت بینظیر بٹھو یونیورسٹی کے تعاون سے فاطمی ثقافت میں اسلامی خاندان کی اہمیت سے متعلق ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا۔
لیبیا کے متحارب دھڑوں نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونے والے مذاکرات میں انتخابات کے انعقاد تک عبوری حکومت اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے کورونا کی وجہ سے حرم مطہر رضوی کے بند ہو جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم کو بند کرنے کا فیصلہ بہت ہی سخت اور مشکل تھا ان کا کہنا تھا کہ تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر کسی دور میں بھی حتی بہت بڑے بڑے اور تاریخی حادثات و واقعات کے باوجود امام علی رضا علیہ السلام کا حرم بند نہیں ہوا تھا لیکن لوگوں کی صحت وسلامتی کی حفاظت کی خاطر مجبوراً یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔