صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایران وزیر خارجہ، ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی، خلیج فارس کی تاریخ بیرونی جارح قوتوں کے عبرتناک انجام کی متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،
سرپرست مدرسہ علمیہ حضرت امام العصر عج فاؤنڈیشن حیدرآباد سندھ حجۃ الاسلام کرم علی حیدری المشہدی نے کہا کہ محمد علی سدپارہ جس نے نہ صرف ملک عزیز پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا بلکہ اس نے ہر مقام پہ اہلبیت علیہم السلام سے بلاخص سید الشہداء محسنِ انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اپنی خصوصی محبت اور عقیدت کا اپنے ملک عزیز پاکستان اور دیارہائے غیر میں اظہار کیا تھا۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کوہ پیما علی سدپارہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ان کے لواحقین سے تعزیت کی ان کا کہنا تھا کہ علی سدپارہ پاکستان کا ہیرو ہے ان کی وطن سے محبت قابل فخر ہے۔
دہشتگرد تکفیری و صیہونی ٹولے داعش نے ایک بیان جاری کر کے یمن میں مصروف جنگ سعودی اتحاد کے ساتھ تعاون اور انصار اللہِ یمن کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا ہے۔
1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی ایران کے اندر عظیم تبدیلیوں کا سرآغاز ثابت ہوئی۔ دنیا پر حکمفرما 'مین اسٹریم میڈیا' کا دعوی تھا کہ انقلاب کے بعد ایران کی پیشرفت کا سلسلہ رک جائے گا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا شعبہ ان شعبوں میں ہے جن کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ تنزلی ہوئی۔ مگر موجودہ اعداد و شمار ان دعوؤں پر خط بطلان کھینچتے ہوئے بعد انقلاب ایران کی زبردست پیشرفت کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پروفیسر رحمت مشرقی ایشیاء خصوصاً انڈونیشیا میں وحدت و تقریب مذاہب اسلامی کے سرگرم مبلغین میں سے ایک تھے۔
حوزہ علمیہ نجف کے معروف استاد حجۃ الاسلام والمسلمین محمد علی بحر العلوم نے کہا ہے کہ اہل عراق کو ہمیشہ سے اہل بیت اور آئمہ اطہار علیہم السلام سے شدید عقیدت ہے، اور امام علی(ع) کی طرف سے کوفہ کو اپنا دار الخلافہ بنانے کے دن سے لے کر آج تک اہل عراق کا شعار یہی عقیدت ہے اور اس کی حفاظت کے لیے انھوں نے ہر آزمائش کو قبول کیا اور اس میں کامیاب رہے۔
آپ دیکھئے کہ اچانک قم میں اشعریین نظر آنے لگے۔ وہ کیوں آئے؟ اشعریین تو عرب ہیں۔ وہ آئے قم۔ قم میں حدیث و اسلامی معارف کا بازار گرم ہو گيا۔ احمد بن اسحاق اور دوسرے افراد نے قم کو اپنا مرکز بنایا۔ ری کے علاقے میں وہ ماحول پیدا ہوا کہ شیخ کلینی جیسی ہستیاں وہاں سے نکلیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت اور اسٹبشلمینٹ ماضی میں سیاسی اور دینی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کرتی رہی ہیں، یہ بھی اسی قسم کا ایک اقدام ہے، حکومت کا یہ اقدام دینی تعلیم کے لئے نہیں بلکہ وفاق برائے نفاق ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے سینiئر مشیر علی اصغر خواجی نے روسی خبر رساں ادارے سپوتنگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شام میں ایرانی عسکری موجودگی خود دمشق کی باقاعدہ درخواست پر رکھی گئی ہے۔ اسرائیل نے اگر شام میں سرخ لکیریں عبور کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا.